
اردو، انگریزی اور معلوماتِ عامہ کی کتب سے حمد، نعت، رسول اکرم، خلفا، اسلامی شخصیات اور مسلمانوں سے متعلق تاریخی حوالہ جات ختم کیے جائیں
کسی بھی غیر مسلم کو یہ مواد پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا، یہ آئین کے آرٹیکل 22 سے متصادم ہیں،کمیشن نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی
اسلام آباد ( نیوزڈیسک) اقلیتوں کے حقوق کے متعلق 2014 میں سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے قائم کردہ مینارٹی کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ لازمی مضامین جیسا کہ اردو، انگریزی اور معلوماتِ عامہ کی کتب سے حمد، نعت، حضور پاک ، خلفائے اسلام، اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات اور مسلمانوں کے حوالے سے تاریخی حوالہ جات ختم کیے جائیں کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 22 سے متصادم ہیں، کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ یکساں قومی نصاب میں شامل تمام تر مذکورہ بالا اسلامی مواد خصوصی طور پر اسلامیات یا اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مضمون خصوصی طور پر مسلمان طلبہ کیلئے ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکساں نصاب کے تناظر میں اسلامی مواد کا اردو اور انگریزی کی کتب میں ہونا ”مذہبی ہدایت“ دیے جانے میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی غیر مسلم کو یہ مواد پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا، کمیشن نے اقلیتی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے کئی اسکالرز اور سرگرم سماجی کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لازمی مضامین میں اسلامی مذہبی مواد کا شامل کیا جانا اقلیتی طلبہ کو اسلامی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے، وزارت تعلیم نے کمیشن کی رپورٹ سے عدم اتفاق کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ یہ ہدایات ٹیچرز کیلئے دی گئی ہیں، اقلیتی کمیونٹی کے طلبہ کو پڑھنے پر مجبور کرنے کیلئے نہیں، غیر مسلم طلبہ کا امتحان بھی اسلامی مواد سے نہیں لیا جائے گا، لیکن کمیشن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ غیر مسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے سے علیحدہ کیسے رکھا جا سکتا ہے ،کمیشن نے مشاہدات میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 22(1) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی ایسے طالب علم کو ایسی مذہبی تعلیمات نہیں دی جا سکتیں جن کا اس کے مذہب سے تعلق نہ ہو۔


































