گزشتہ سے پیوستہ
پیاری بیٹی! ممکن ہے کہ یہ مسائل ریت کا ٹیلہ ہوجو ہوا کی ایک پھونک سے اڑ جائے۔ بہرکیف جب چند مسائل سامنے آجائیں تو سب سے پہلے ان کا انتخاب کر جنہیں حل کرنے میں تجھے ذرا مشکل محسوس ہورہی ہے۔ اس مشکل کے باوجود انہیں حل کر۔ اتنی دیر میں ناممکن قسم کے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ غائب ہو جائیں گے یا آسان ہو جائیں گے۔
جو مسئلہ تو آج حل نہیں کر سکتی انشاء اللہ کل حل کرلے گی۔ خواہ مخواہ جلدی کیا ہے۔ آج کے دن آج کے مسائل حل کر۔ کل کا دن اپنی فکر آپ کرلے گا۔
ایک ہی قسط میں سارے مسائل حل کرنے کی کوشش مت کر بلکہ انہیں الگ الگ اور ٹکڑے ٹکڑے کرلے۔
جو وقت فکر و تردّد میں برباد ہورہا ہے اسے کسی نیک کام میں لگا تاکہ تیری صلاحیتیں بڑھیں اور نیک کام کرنے کی خوشی حاصل ہو۔ اس طرح ہر دن ایک نئی خوشی گھر میں لا۔
جب فکر و تردد تیرے پاس آئیں تو انہیں بنڈل میں باندھ کر ایک طرف رکھ دے۔ سب سے پہلے ایک مزیدار کھانا پکا، کھا اور کھلا، اس کے بعد گھر والوں یا دوستوں کے ساتھ کچھ تفریح کر۔ اپنے دھیان اور ذہن کو کہیں اور لگا۔اگر ضرورت ہو تو ایک پکنک بھی منالے۔ جب توواپس گھر آئے گی تو معلوم ہوگا کہ نصف سے زیادہ فکر و تردّد رسی تڑا کر بھاگ نکلے ہیں۔
بعض عورتوں کے پاس وقت گزاری کے لئے گھر میں فکر نہ ہو تو وہ پاس پڑوس سے ادھار لے آتی ہیں۔
ہم نے ایک عمررسیدہ تجربہ کار عورت کو دیکھا ہے۔ اسے بخار آگیا محض اتنی سی بات پر کہ فلاں کا رشتہ فلاں سے کیسے ممکن ہے۔
اگر تجھے فکر ہی ہے تو دوسروں کو شامل مت کر۔ تنہائی میں جا اور پیٹ بھر کے فکر کرلے۔ فکر و غم کی میزبانی کر۔ وہ تیرے دل و دماغ پر سوار ہو جائیں گے بلکہ اور فکر و غم کو بلالیں گے۔ انہیں بھوکا پیاسا مار دے وہ سب بھاگ جائیں گے۔
فکر بے کار دماغوں کی من پسند مٹھائی ہے۔ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ اپنے دل و دماغ کو کسی کام میں لگا۔ ذرا بتا کسی شہد کی مکھی کو فکر و غم کی فرصت ہے۔
میری حسین و جوان بیٹی! عقل میں بھی حسین و جوان بن۔ پرانے غموں پر تازہ آنسو ضائع نہ کر۔ فکر کے لئے سارا مواد عقل نہیں دے سکتی۔ بہت سا مواد حماقت او رجہالت سے بھی آتا ہے۔ ہر مسئلہ کا ایک حل ہے۔ یا حل کو دماغ سے نکال یا مسئلہ کو دل سے نکال۔ یہ واحد جسم ہے جو قدرت سے تجھے ملا ہے۔ اس کی حفاظت کر۔
تیرا حسن و شباب شوہر کی امانت ہے۔ اپنی آنکھوں کو کہہ کہ آنسو پانی کی طرح نہ بہائیں۔ ہر شب کو جب افکارکی دکان کھولتی ہے، اٹھ وضو کر اپنے مالک و مولا سے دعا مانگ۔ وہی کارساز ہے۔
کوئی مقصد حیات سامنے رکھ۔ اس میں تن من دھن سے لگ جا۔ اس میں اپنا تمام دماغ کھپا دے کیونکہ بیکار دماغ شیطان کی فیکٹری ہے جہاں فکر و غم اکسپورٹ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔ اپنے دماغ کو اپنے مقصد حیات کے مسائل میں الجھا ئے رکھ تاکہ اسے دوسرے فکر و غم کی فرصت نہ ملے۔ قرآن حفظ کرنا یا تلاوت سیکھنا یا تفسیر کے ساتھ مطالعہ کرنا کسی امتحان کی تیاری کرنا اپنے یا دوسروں کے بچوں کو پڑھانا، مضمون لکھنا، تبلیغ کرنا وغیرہ اچھے مقاصد ہیں۔ اگر کوئی اور بڑا کام نہ ہو سکے تو کم سے کم خوش خطی کی مشق کر۔اخبار پڑھ اور سمجھ۔کتاب پڑھ اور مختلف کتابیں پڑھ، کوئی اچھا سا مضمون لکھ۔
اگر تو حالات پر قابو نہیں پائے گی تو حالت تجھ پر قابو پالیں گے۔
مسائل حل کرنے کا ایک اچھا نسخہ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔
(۱) واقعات اور وجوہات کو سامنے رکھ۔
(۲) ہر تصویر کے دونوں پہلوؤں کو دیکھ۔ نفع کا بھی اور نقصان کا بھی۔ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔
(۳) واضح مقصد پیش نظر ہو۔ صاف شفاف، سنگ بلور کی طرح کہ آخر تو چاہتی کیا ہے؟
(۴) صرف معاملات ہی کو سامنے نہ رکھ۔ بلکہ اپنے جذبات کو بھی۔ معاملات خواہ کچھ بھی ہوں کیسے بھی ہوں اصل چیز جذبات کی تسکین ہے۔ تیرے بھی اور دوسروں کے بھی۔
(۵) حل کرنے میں گھبراہٹ اور جلد بازی نہ کر۔ مسائل کو آپ اپنے شوربہ میں پکنے دے۔ ہر مسئلہ کے حل کرنے کا ایک موزوں ترین وقت ہے۔ نہ پہلے اور نہ بعد۔
(۶) حل وہی ہے جسے عمل میں لایا جاسکے۔
(۷) جو مسئلہ کسی دوسرے کے ذمہ ہے تو بیچ میں کود کر اسے اپنا مت بنالے اور مفت مشورے مت دیا کر۔ اس کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ البتہ جب کوئی مشورہ طلب کرے تو پھر محنت کرکے نیک مشورہ دے۔
(۸) اپنے معاملات میں بھی دوسروں سے مشورہ لیا کر۔ مشورہ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بہت سے پہلو سامنے آجاتے ہیں۔ بحث کرنے سے تیرا دماغ کھلتا ہے۔ تصویر واضح ہو جاتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ مناسب حل نکل آئے۔
(۹) عقل اس وقت تک بیکار ہے۔ جب تک کہ اس کے ساتھ محبت اور شجاعت نہ ہو۔
تیرے سکون دل کے لئے بہترین دعاؤں کے ساتھ تیرا باپ……جسے تو جنت بھیج سکتی ہے۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- فکر و غم
فکر و غم
-
Ilyas - فروری 27, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 11
- 0 minute read


































