
مراکش اور اسرائیل کے تعلقات پر تنقید اور تبصرہ کریں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر بھی کسی نوعیت کا مضمون یا پوسٹ بھیجیں ، فلسطینی انتظامیہ کا الفتح اور وزارت خارجہ کو حکم
فیصلہ سعودی عرب کی برہمی پرکیا گیا، محمود عباس عرب ممالک کی حمایت کھونانہیں چاہتے،مصر نے سعودی عرب اور فلسطینی انتظامیہ میں ثالثی شروع کردی ،رپورٹ
رام اللہ (نیوز ڈیسک) فلسطینی انتظامیہ نے سعودی خوشنودی کیلئے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنیوالے عرب ممالک پر تنقید کرنے پر پابندی لگادی ،عرب جریدہ کی رپورٹ کے مطابق مراکش اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کے بعد فلسطینی وزارت خاجہ اور الفتح کے عہدیداروں کوایک مراسلے کے ذریعے حکم دیا گیا کہ وہ مراکش اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام پر کسی بھی قسم کی تنقید اور تبصرہ کرنے سے گریز کریں اور سوشل میڈیا پر بھی کسی نوعیت کا مضمون یا پوسٹ نہ بھیجیں ،اس حکم نامہ کی وجہ سے الفتح تحریک نے مراکش اور صیہونی حکومت کے درمیان سمجھوتے پر خاموشی اختیار کئے رکھی جبکہ فلسطین کی8دوسری تنظیموں نے معاہدہ کی شدید مذمت کی تھی، الفتح تحریک کے مرکزی کمیٹی کے رکن عباس زکی کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات پر سعودی عرب پر شدید تنقید کی گئی تھی ،جس پر سعودی حکام نے فلسطینی انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ،رپورٹ کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیل سے تعلقات کے باوجود عرب ممالک کی حمایت محروم نہیں ہونا چاہتے ہیں اسی لئے انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ہے ، ادھر مصر نے محمد بن سلمان اور فلسیطینی قیادت کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لئے ثالثی شروع کردی ہے۔


































