
7شیعہ جماعتوں کے اتحاد کے اجلاس میں مصطفی الکاظمی نے وزرا کے ناموں کی ابتدائی فہرست پیش کی،تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر فہرست کو مسترد کردیا
وزیراعظم کی نئی کابینہ تشکیل دینے کی سفارش،تمام نام سیاسی جماعتوں کے دباؤ پر شامل کئے گئے،پارلیمنٹ سے منظور ی مشکل ہوگی، رہنما سائرون گروپ
بغداد (نیوز ڈیسک)عراق میں شیعہ جماعتوں کے اتحاد نے نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی کابینہ کیلئے منتخب تمام نام مسترد کردئے جس سے نیا بحران پیدا ہوگیاہے،فتح پارٹی کے سربراہ ہادی العامری کی رہائش گاہ پر 7شیعہ جماعتوں کے اتحاد کا اجلاس ہوا جس میں مقتدیٰ الصدر کی سیرون،فتح گروپ، الحکمۃ،النصر،ریاست وقانون گروپ اور العطا گروپ نے حصہ لیا،اجلاس میں نامزد وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے اپنی کابینہ کے ناموں کی ابتدائی فہرست پیش کی لیکن شیعہ جماعتوں نے اسے مسترد کردیا،شیعہ رہنما عمارالحکیم کی جماعت الحکمۃکے رہنما رحیم العبودی نے بتایا کہ شیعہ اتحاد نے ناموں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ان سے ہر وزارت کیلئے نام پیش کرنے پر زور دیا تاکہ وزرا کی فہرست صدر کو بھیجی جائے، بعدمیں سائرون گروپ کے رکن پارلیمنٹ بدر الزیاد نے بتایا کہ مجوزہ کابینہ کا پارلیمنٹ سے منظور ہونا ناممکن ہے،کیونکہ اس میں سیاسی جماعتوں کے دباؤ پر نام شامل کئے گئے ہیں، صدر برہم صالح نے عدنان الزرفی کی جانب سے کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی کے بعد مصطفی الکاظمی کو کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔


































