سرکاری ٹی وی پر یہودی دائی کی کہانی پر مشتمل ڈرامہ سیریل نشر،مقصد یہودیوں کو مظلوم دکھانا اور عوام میں یہودیوں کیلئے نرم گوشہ پیدا کر نا ہے
13مزاحمتی تنظیموں کا ایم بی سی ٹی وی کو خط لکھ کر سیریل فوری روکنے کا مطالبہ،ڈرامہ کا مقصدصہیونی قبضہ کو خلیجی معاشرے کیلئے قابل قبول بنانا ہے،حماس
جدہ (نیوز ڈیسک) سعودی ٹی وی ایم بی سی نے ایک یہودی دائی کی کہانی پر مشتمل ڈرامہ سیریل نشر کرناشروع کیاہے، جس کا مقصد عوام میں اسرائیل سے تعلقات کیلئے نرم گوشہ پیدا کرنا ہے، ٹی وی سیریل پر عرب دنیامیں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، ام ہارون،، ایک افسانوی سیریز ہے جو 1930 سے 1950 کی دہائی میں خلیجی عرب ریاست جس کی حدود کا تعین نہیں کیا گیا ہے میں کئی مذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل کمیونٹی کو دکھایا گیا ہے، یہ ڈرامہ 1930 کی دہائی میں عراق سے بحرین آنے والی یہودی دائی ام ہارون کی زندگی پر بنایا گیا ہے،عرب عوام نے ڈرامہ سیریل پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ ڈرامہ کا مقصد عرب دنیا میں یہودیوں کے ساتھ ناانصافی کو اجاگر کرنا ہے، خلیج میں کئی خواتین ہیرو موجود ہیں پھر ہمارے ڈرامے میں ایک یہودیخاتون کو بطور ہیرو کیوں پیش کیا جارہا ہے، فلسطینی خواتین کی مشکلات پر ڈرامہ سیریل اور دستاویزی فلم کیوں نہیں دکھائی جاتی ہے؟ اسرائیلی اخبار این 12نے لکھا کہ ڈرامہ سیریل ولی عہد کی ذاتی خواہش پر تیاراور شروع کیا گیا جو اسرائیل سے قریبی تعلقات کے خواہاں ہیں، حماس نے ڈرامہ سیریل کو خلیجی معاشرے میں صہیونی منصوبہ متعارف کروانے کی سیاسی اور ثقافتی کوشش قرار دیا ہے،حماس کے سینئر رہنما رافعات مرانے کہاکہ ام ہارون کے کردار نے انہیں قاتل،مجرم اور فلسطین پر قبضہ کی بانی سابق اسرائیلی وزیراعظم گولڈامیئر کا کردار یاد دلادیا، یہ معمول کے اہداف ہیں یعنی نفرت،آہستہ آہستہ قتل اور اندرونی تباہی،ڈرامہ کا مقصد تاریخ کو غلط بنانا اور خلیجی معاشرے کو آہستہ آہستہ صہیونی قبضہ کیلئے معمول پر لانا ہے،ادھر 13مزاحمتی تنظیموں نے ایم بی سی ٹی وی کو خط لکھ کر ڈرامہ سیریل فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- سعودیہ کے سرکاری ٹی وی پر یہودی دائی کی کہانی…
سعودیہ کے سرکاری ٹی وی پر یہودی دائی کی کہانی پر مشتمل ڈرامہ سیریل نشر، عرب دنیامیں غم وغصہ کی لہر
-
Ilyas - مئی 1, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 12
- 0 minute read


































