
امریکی ثالثی میں قطر سے سمجھوتہ، سعودی عرب کاغیر مشروط طور پر قطر کا 3 سال سے جاری محاصرہ ختم کرنے کا اعلان، فضائی، زمینی اور سمندری حدودکھول دیں
قطر کی سعودی دعوت پر خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت،سعودی عرب نے قطر سے تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ خطے میں ایران کو تنہا کیا جاسکے
دوحہ /جدہ(نیوز ڈیسک) سعودی عرب نے محاصرہ کی ناکامی پر قطر کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے اور نہ صرف فضائی، زمینی اور سمندری حدودکھول دیں بلکہ اسے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دے دی، سعودی عرب نے امریکی ثالثی میں قطر سے سمجھوتہ پر آمادگی ظاہر کی اور غیر مشروط طور پر قطر کا تین سال سے جاری محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کردیا، اس بات کا فیصلہ سعودی عرب میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا جس میں قطر نے تین سال بعد سعودی دعوت پر شرکت کی ، سعودی فرمانروا سلمان بن عبد العزیز نے امیر قطر شیخ تمیم کو دعوت نامہ ارسال کرکے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی ،معاہدے پر دستخط کی تقریب میں قطر کے امیر شیخ تمیم اور ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر شرکت کریں گے، سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے کویتی ہم منصب احمد ناصرالمحمد الصباح کو ٹیلی فون کرکے قطر کیلئے سرحدیں کھولنے کے فیصلے سے آگاہ کیا، انہوں نے اس سلسلے میں قطر کے ساتھ سعودی عرب اور اتحادیوں کا سیاسی تنازع حل ہونے کا حوالہ بھی دیا، سعودی عرب نے تعلقات کی بحالی کیلئے قطر کے سامنے کئی مطالبات رکھے تھے لیکن قطر نے تمام مطالبات مسترد کردئے ،تین سال تک تمام کوششوں کی شرمناک ناکامی کے بعد آخرکار سعودی عرب کو خودہی جھکنا پڑا اور قطر سے تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ خطے میں ایران کو تنہا کیا جاسکے ،سعودی فضائی حدود کھلنے سے قطرکیلئے پروازیں اب ایران کے بجائے براہ راست سعودی عرب سے آمدورفت کریں گی اور ایران ایوی ایشن کی ایک بڑی آمدنی سے محروم ہوجائے گا۔


































