
سری لنکن کابینہ نے عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر پابندی کی منظوری دیدی ہے۔ سری لنکا کی کابینہ نے عوامی مقامات پر برقعہ پہننے یا چہرہ مکمل ڈھانپنے پر پابندی کی منظوری دے دی ہے تاہم پابندی کے اطلاق سے پہلے پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے گی جہاں حکومت کی اکثریت ہے۔ مذہبی آزادی سے متعلق اقوام متحدہ کے نمائندے نے پابندی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزری قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سری لنکا نے ملک بھر میں ہزار سے زائد اسلامی اسکولوں کو بند کرنے اور خواتین کے نقاب لگانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ سارتھ ویراسکیرا نے برقع پہننے کو شدت پسندی قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔
سری لنکا میں ماضی میں بھی کئی پالیسیوں کے ذریعہ مسلمان آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2020 میں حکومت نے یہ حکم دیا تھا کہ کووڈ۔19 سے متاثر ہو کر مرنے والے مسلمانوں کی لاشوں کو دفنانے کے بجائے جلایا جائے۔ جس کے بعد سری لنکا کی مسلم تنظیموں نے کئی مہینوں تک احتجاج کیا۔ اس کے بعد حکومت نے رواں برس فروری میں ہی لاشوں کی تدفین پر پابندی ختم کردی کیونکہ لاشوں کو جلانا اسلامی عقائد کے منافی ہے۔


































