”اپنے ہر دن کا آغاز پْرسکون، پْرشکر اور خوش گوار رویے سے کرو، آنے والے ایام خوشحال اور کامیاب ہوں گے!“(نارمن ونسنٹ پیل)
انسان کے دنیا میں آنے کے بعد جس شخصیت کے ساتھ پہلا تعلق بنتا ہے وہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ ماں ایک رویے کا نام ہے، کیونکہ اس کی شفقت بچے کو بتاتی ہے کہ وہ اس کی ماں ہے۔ ماں سے شفیق دنیا میں اس کیلئے کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
زندگی کی ابتدا کا طویل عرصہ ایسا ہوتا ہے جس میں انسان میں پرکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی وہ جو کچھ سنتااور دیکھتا ہے، قبول کرلیتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی شخصیت میں خاص رویے پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر وہی رویے اس کی ذات کے ساتھ جڑجاتے ہیں۔ وہ رویے غلط بھی ہوسکتے ہیں اور صحیح بھی۔ مثال کے طور پر آدمی جب غلطی کرتا ہے تواس کے جواب میں اسے ڈانٹ پڑتی ہے۔ اب ڈانٹ ایک رویہ ہے۔ ممکن ہے، یہ رویہ ٹھیک نہ ہو یا اتنی مقدارمیں ٹھیک نہ ہو، جتنی مقدار میں ملا ہو۔
زندگی کے مختلف ادوار میں رویوں کی تشکیل
زندگی کے مختلف ادوار ہیں۔ ایک دَور میں انسا ن اپنے والدین کے زیرِسایہ ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اسے آزادی مل جاتی ہے۔ اس وقت جو کچھ اس نے لاشعوری طور پر سیکھا ہوتاہے، اس کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے بقول شیکسپیئر، زندگی ایک اسٹیج ہے اور ہر شخص اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ زندگی کے معاملات میں جب انسان دوسروں کے ساتھ پیش آتا ہے تواس کے متعلق کہا جاتاہے کہ اس کا رویہ اچھا ہے یا اس کا رویہ برا ہے۔ جب اس کی وجہ تلاش کی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ اس نے شروع میں لاشعوری طور پرجو رویے سیکھے تھے، وہ اس کی ذات کا حصہ بن گئے۔ بچپن میں چونکہ انسان کو سمجھ بوجھ نہیں ہوتی اور نہ اس کے پاس پرکھنے کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اندرکسی بھی قسم کا رویہ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم، انسان کو چاہیے کہ جب شعورآئے تو ان رویوں پرغورو غوض کرنا شروع کردے، کیو نکہ شعورکا دَوربہت قیمتی ہوتا ہے۔ اسی دَورمیں وہ اپنی زندگی کے انتخاب کرنے کے قابل خود ہوتا ہے۔
چند منفی اور تخریبی رویے
جو منفی رویے کسی فرد کے مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں، ان میں ایک رویہ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کا رویہ بھی ہے۔ اس رویے کو زندگی سے نکال دیناچاہیے۔ یہ رویہ انسان کو تنہا کردیتا ہے۔ بابا جی اشفاق احمد فرماتے ہیں، ”مکھی کی ہزار آنکھیں ہوتی ہیں، لیکن بیٹھتی پھر بھی وہ گندگی ہی پر ہے۔“ لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی ساری ذہانت دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں لگا رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ اپنے بارے میں کبھی برا نہ سوچو، کیونکہ یہ کام آپ کے رشتے دار بہت پہلے سے آپ کے ساتھ کررہے ہیں۔ دوسروں کی بلاوجہ بے عزتی کرنا، ایک ایسا رویہ ہے جس میں آدمی چھلانگیں لگاتا ہے اورایسی ایسی حرکتیں کرجاتا ہے کہ حیرانگی ہو تی ہے۔ ایسے رویے کو بھی زندگی سے نکالنے کی ضرورت ہے۔
ایک رویہ یہ ہے کہ کام کی بات نہیں سیکھنی، بلکہ بے مقصد ہی ہانکنی ہے۔ لوگوں کودنیا جہان کے بارے میں پتا ہوتا ہے جبکہ اپنے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ اس رویے کو بھی زندگی سے نکال دینا چاہیے۔
بعض لو گ زندگی میں ابھی کچھ بنے ہوتے نہیں، لیکن پہلے سے ہی محسوس کرانا شروع کر دیتے ہیں جیسے کئی افسروں کے بچے اپنے آپ کو افسر محسوس کراتے ہیں۔ کسی وزیرکا بچہ پطرس بخاری صاحب کے پاس رزلٹ معلوم کرنے چلا گیا۔ اس وقت رزلٹ آنے میں ایک دودن باقی تھے۔ بچے نے ان سے کہا کہ رزلٹ تو کل آنا ہے، لیکن آپ مہربانی کریں اور مجھے آج ہی رزلٹ بتا دیں۔ پطرس صاحب نے کہا، میں تو رزلٹ آج نہیں بتاسکتا۔ بچے نے کہا، آپ کو پتا نہیں میں کس کا بیٹا ہوں۔ پطرس صاحب نے کہا، مجھے نہیں پتا۔ بچے نے پھر کہا کہ آپ کو نہیں پتا میں کس بیٹا ہوں۔ پطرس صاحب نے اس بچے کے والد کوفون کیا اور کہا کہ آپ کا بیٹا پاگل ہو گیا ہے۔ بار بار مجھے کہہ رہا ہے، آپ کو پتا نہیں کہ میں کس کا بیٹا ہوں۔ اگر کہیں ایسا رویہ ہے تواسے بھی نکال دینا چاہیے۔
رویوں کی درستی کیوں کر؟
اپنے رویوں کی فہرست بنائیے۔ روزانہ دن کے پانچ واقعات لکھیے۔ مثال کے طور پر، آپ دفتر میں بیٹھے تھے، کسی نے آکر کہا کہ آپ کی گاڑی کا شیشہ کوئی توڑ گیا۔ آپ فوری اس کا ردِ عمل ظاہرکریں گے۔ آپ کا یہ ردِ عمل ایک رویہ ہے۔ اسے لکھ لیجیے۔ اسی طرح اور معاملات پر جو رو یے ہوں انھیں لکھیے۔ روزایسا کرنے سے آپ کے تیس پینتیس رویے سامنے آ جائیں گے۔ اس میں سے کچھ رویے ایسے ہوں گے جو دوبارہ آئے ہوں گے۔ جو رویے دوبارہ آئے ہوں، انھیں اس فہرست میں کاٹ دیجیے۔ جب یہ کانٹ چھانٹ ہوجائے گی تو یہ بیس سے زیادہ نہیں بنیں گے۔اب ان رویوں پرغورکیجیے کہ ہمارے پاس ایک ہفتہ ہے۔ ہفتے میں سات دن ہیں اوران سات دنوں بیس رویوں کا استعمال ہوتا ہے۔ پھر ان کا جائزہ لیجیے اور دیکھئے کہ ان میں سے کون سے ایسے ہیں جنھیں سیکھنا ہے اور کون سے ہیں جنھیں چھوڑنا ہے، کون سے رویے ہیں جنھیں قائم رکھناہے۔
تاریخ کے روشن رویے
رویے سیکھنے کے حوالے سے ہمارے پاس تاریخ میں شان دار مثالیں موجود ہیں۔ ان کودیکھ کر مثبت اور تعمیری رویے سیکھے جاسکتے ہیں، ان میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رویے کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ اگر جنگ میں پانی آ رہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ زخمی ہیں۔ اس شدید حالت میں کہ جب موت سامنے ہے، ایک صحابی دوسرے کوکہہ رہا ہے کہ آپ پانی پی لیں۔ دوسرا تیسرے کو کہہ رہا ہے آپ پی لیں۔ تیسرا چوتھے کوکہہ رہاہے کہ آپ پی لیں، یہاں تک کہ سارے صحابہ شہیدہوجاتے ہیں۔ یہ رویہ نہایت قربانی کا رویہ ہے۔ اسی طرح، ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان آتا ہے۔ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، مگر مہمان کا اکرام ضروری ہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ اسے کھانا پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی چراغ گل کردیتے ہیں تاکہ وہ کھاتا رہے اور ہم نہ کھائیں۔ وہ یوں ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے مہمان کے ساتھ خود بھی کھانا کھارہے ہیں۔ یوں، مہمان سیر ہوکر کھانا کھا لیتا ہے۔ یہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تربیت تھی جس سے یہ رویے پیدا ہوئے۔
منافقت نہ کیجیے
ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم بہ ظاہر معاف توکردیتے ہیں لیکن اندر ہی اندر غصے سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ اس تضاد کو ختم کیجیے۔ معافی کا جواز تلاش نہ کیجیے۔ اگرآج آپ کسی کومعاف کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے، کل کوئی آپ کے بیٹے کومعاف کر دے۔ ورنہ، اللہ کا وعدہ تو کہیں نہیں گیا کہ آپ جب اللہ کی رضا کیلئے کسی انسان کو معاف کریں گے تو اللہ آپ کی خطاؤں اور گناہوں سے درگزر کردے گا۔
لالچ بھی ایک عام رویہ ہے۔ اپنی زندگی سے سے لالچ ختم کیجیے اور ہاتھ کھلا رکھیے۔ دوسروں کواپنے کھانے میں شامل کیجیے۔اگر ایسی عادت بن جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ دل میں وسعت پیدا کردے گا۔ انسان کیلئے سب سے مشکل کام اپنی کمائی سے دوسروں کو کھلانا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں امیر ہوں گا تومیں اپنا دسترخوان وسیع کروں گا۔ یہ غلط رویہ ہے۔ اگرآج غربت میں ہاتھ نہیں کھلا تو پیسہ آنے پر تو بالکل نہیں کھلے گا۔
درج ذیل باتوں کو اپنا کراپنے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے:
دوسروں کوآسانیاں دیجیے اوراپنی آسانیوں میں شامل کیجیے۔ یہ توفیق ہے اور یہ توفیق اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو دیتا ہے۔ جس کیلئے کچھ نہیں کرسکتے، کم ازکم اس کیلئے دعا ضرور کیجیے۔ کسی کی تکلیف دیکھ کرکبھی خوش نہ ہوں بلکہ اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کیجیے۔ آسانیاں بانٹیں گے توآسانیاں ملیں گی۔
دوسروں کے بارے میں غلط اندازے لگانا چھوڑدیجیے۔ روزمحشر بندہ جانے اوراس کا اللہ جانے۔ ویسے بھی زندگی مختصر ہے۔ اگر وہ بھی دوسروں کے بارے میں غلط اندازے لگانے میں صرف کردی تو پھر خود کو جج کرنے کا وقت ہی نہیں ملے گا اورآخرت میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مدد گار بنیے۔ لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ پتا نہیں کہ ہم سے منسلک فرد کل کوکہاں پہنچ جائے۔ اگر آج کسی کی زندگی ہمارے اچھے رویے سے بن رہی ہے تواس نیکی کی ایک اینٹ ضرورلگائیے۔ پھر یہی نیکی ایک زنجیر کی صورت اختیار کرلے گی اور صدقہ جاریہ بن جائے گی۔
دنیا کو ٹھیک کرنے کی فکر کرنے کی بجائے اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کیجیے۔ اگر آپ ٹھیک ہوگئے تو دنیا خود بہ خود ٹھیک ہونا شروع ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آسانیاں عطا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے۔آمین


































