
حشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض کو بلیک لسٹ کرنے اور پابندیاں لگانے پر عراقی رہنما برہم،امریکی فیصلہ ناقابل قبول،عراقی اقتدار کا احترام ضروری
فالح الفیاض پرپابندی امریکی ناتوانی کی علامت، امریکی مقصد ہمارے ملک کے قانونی اداروں کو نشانہ بنانا ہے، فالح الفیاض کو بلیک لسٹ کرنے پر ردعمل
واشنگٹن /بغداد (نیوز ڈیسک)عراقی حکومت نے حشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض کو بلیک لسٹ کرنے اور پابندیاں لگانے پر سخت احتجاج کیا ہے ، صدر برہم صالح نے امریکا کو خبردارکیا کہ وہ عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے، امریکی وزارت خزانہ نے حشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اُن پر پابندیاں عائد کر دیں، الفیاض پر انسانی حقوق کی پامالیوں اور دہشت گردی کے حملوں میں سہولت کاری جیسے سنگین الزامات عاید کئے گئے ہیں ،عراقی صدر برہم صالح نے فالح الفیاض کے ساتھ ایک آن لائن ملاقات میں عراق کے اقتدار کے احترام کو ضروری قرار دیا اور کہاکہ ملک کے اندرونی معاملات میں غیروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابل قبول ہے، وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی فیصلہ ہرگز قابل قبول نہیں، النجبا تحریک کے ایک اعلی عہدیدارہاشم موسوی نے فالح الفیاض پرپابندی کو امریکی ناتوانی کی علامت قرار دیا ہے،انہوں نے کہاکہ سازشوں میں ناکامی کے بعد امریکاکاعوامی فورس کے سربراہ کو نشانہ بنانا ایک شکست خوردہ اقدام شمار ہوتا ہے ،مجلس اعلائے اسلامی کے سربراہ شیخ ہمام حمودی نے بھی ایک بیان جاری کرکے، عوامی رضاکار فورس کے سربراہ فالح الفیاض کو امریکاکی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کا یہ فیصلہ عراق کے اقتدار اعلی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد ہمارے ملک کے قانونی اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔


































