
ایران جوہری معاہدے کے جوائنٹ کمیشن نے ویانا میں باقاعدہ کام شروع کردیا، امریکا کے ساتھ مسئلے کے حل کیلئے علیحدہ علیحدہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
معاہدے میں امریکا کی واپسی کے مذاکرات کو طول دینے اور وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، تمام پابندیاں ایک ساتھ اٹھائی جائیں،ایرانی حکام
ویانا،تہران (نیوز ڈیسک) ایران جوہری معاہدے کے جوائنٹ کمیشن نے ویانا میں باقاعدہ کام شروع کردیا جبکہ ایران نے واضح طور مرحلہ وارپابندیاں اٹھانے کی تجویز مسترد کردی ہے تفصیلات کے مطابق ویا نا میں قائم کیا گیا جوائنٹ کمیشن ایٹمی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے ،پہلے اجلاس میں چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور ایران کے نمائندوں نے شرکت کی اور امریکا کی معاہد ہ میں واپسی ،معاہدے کے مکمل اور موثر نفاذ کیلئے پابندیوں کو اٹھانے اور جوہری عملدرآمد کے ضمن میں مخصوص اقدامات سے متعلق ویانا مذاکرات میں پیش رفت کا جائزہ لیا ، اجلاس میں متعلقہ اقدامات کی بہتر ممکنہ ترتیب کیلئے ماہرین پر مشتمل ایک تیسرا گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ،شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ اس مسئلے کے حل کیلئے علیحدہ علیحدہ رابطوں کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے، کمیشن کا اگلا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا،دوسری جانب ایرانی حکا م نے مرحلہ وارپابندیاں اٹھانے کی تجویز مسترد کردی اور واضح کیا کہ تمام پابندیاں ایک ساتھ اٹھائی جائیں ،انہوں نے پابندیوں ختم کرنے کی تصدیق کیلئے ایک ہفتہ کے وقت کو بھی مضحکہ خیزقرار دیا اور کہا کہ تین سے 6ماہ سے پہلے پابندیوں کے خاتمے کی تصدیق ممکن نہیں،ایران کے اعلی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں امریکا کی واپسی کے مذاکرات کو طول دینے اور وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، معاہدے میں واپس آنے کے لئے امریکا کو ایران کے خلاف تمام پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ کے سلسلے میں پہلا قدم بھی امریکا کو اٹھانا پڑے گا اس لئے کہ امریکا نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوکر اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ، انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے وعدوں کے مطابق عمل کرے گا تو اس صورت میں ایران بھی دوبارہ اپنے وعدوں پر عمل شروع کردے گا۔


































