
انقرہ: ترکیہ اور شام میں زلزلے کے چار دن بعد بھی ملبے تلے زندگی کے آثار موجود ہیں۔ بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ ریسکیو اہلکار مسلسل تین راتوں سے منجمد کرنے والے موسم میں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو تلاش کررہے ہیں۔ ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مرنے والوں کی تعداد بائیس ہزار تک جاپہنچی ہے۔ زلزلے کے زوردار جھٹکوں سے ترکیہ کے دس اور شام کے پانچ شہروں میں تباہی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے آنے والی تباہی کی مکمل تصویر اب تک غیر واضح ہے۔ترک صدر نے اس زلزلے کو صدی کی سب سے بڑی آفت قرار دیا ہے۔ تاہم عالمی طور پر امداد کی کوششوں میں تیزی آ رہی ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس زلزلے کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی نقصان ہوا ہے۔ مالیاتی ریٹنگز کے ادارے فِچ کا کہنا ہے کہ یہ نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ متاثرین کی تعداد 23 ملین یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔


































