Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

بھارتی حکومت کے کشمیر میں حالات کی بہتری کے دعوے حقائق کے برخلاف ہیں، بھارتی وفد

بھارت کے سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا کی سربراہی میں کنسرنڈ گروپ آف اسٹیزنز (سی سی جی) نے جموں و کشمیر کے حالیہ دورے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں حالات کی بہتری کے متعلق جو دعوے کئے ہیں، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور 5 اگست 2019ء کے بھارتی حکومت کے فیصلے نے کشمیر کے لوگوں کو انتہائی رنجیدہ کردیا ہے اور وہاں پر بیشتر لوگ اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ اس دوران رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو ریاست جموں و کشمیر میں حکومت کی جانب سے آئینی اقدام کے بعد زمینی سطح پر لوگوں میں خوف اور شدت کا غصہ ہے اور 95 فیصد لوگوں کے دل اس فیصلے سے زخمی ہوئے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے ساتھ بات کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا کی سربراہی میں (سی سی جی) کے اہم رکن کپل کاک نے کہا کہ اگرچہ ظاہری طور پر کشمیر میں حالات نارمل لگتے ہیں لیکن 5 اگست 2019ء کے بھارتی حکومت کے فیصلے پر اصل میں وہاں پر لوگوں میں انتشار، خوف، غصہ اور بیگانگی عروج پر نظر آرہی ہے۔
انہوں نے میرواعظ مولوی عمر فاروق کی نظربندی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی جی کے وفد کو میرواعظ کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی گارڈز نے میر واعظ منزل کے گیٹ پر روکا اور 15 منٹ کے طویل انتظار کے بعد ہمیں گیٹ سے فون پر میرواعظ سے بات کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ میرواعظ کو لگاتار 90 جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میں خود ایک کشمیری ہوں، میں کشمیر میں پیدا ہوا اور کشمیر میں ہی تعلیم حاصل کی ہے لیکن کشمیری بددل ہوئے ہیں اور ان کی تذلیل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گزشتہ تین برسوں میں ’’سی سی جی‘‘ ممبروں کا 8واں دورہ ہے اور اس بار میں نے کشمیری عوام کو بھارت کے 5 اگست 2019 کے آئینی اقدام کے خلاف سراپا احتجاج پایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ آرٹیکل 370، 35 اے اور ریاستی درجہ کی بحالی چاہتے ہیں جو 5 اگست سے پہلے موجود تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular