
امریکا اپنی طرز کی جمہوریت دوسروں پر تھوپنا بند کرے ، امریکا کو اپنے گھر کی جڑوں میں بیٹھی نسل پرستی پر توجہ دینی چاہئے ،الاسکا مذاکرات میں چین کی برہمی
بین الاقوامی برادری میں بھی چین کی پالیسیوں پرتشویش پائی جاتی ہے،،چین دکھاوے کے لیے ذہن بنا کر آیا تھا،اجلاس میں امریکا کے چین پر الزامات
الاسکا(نیوز ڈیسک) بائیڈن انتظامیہ اور چین کے درمیان پہلی ملاقات میں ہی تلخی پیدا ہوگئی، الاسکا میں اجلاس کے دوران امریکا نے ہانگ کانگ اور ڑن جیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا، چین نے جواب میں بلیک لائیوز میٹر تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنے گھر کی جڑوں میں بیٹھی نسل پرستی پر توجہ دینی چاہئے، امریکاکوایسے وقت پر اپنی طرز کی جمہوریت دوسروں پر نہیں تھوپنا چاہیے جب آس کے اپنے ہی ملک میں بے چینی بڑھ رہی ہے ،چینی حکام نے امریکاپر الزام عائد کیا کہ وہ دیگر ممالک کو چین پر حملہ کرنے کے لیے اکسا رہا ہے،امریکا اب چین کے ساتھ طاقتور کی حیثیت سے بات نہیں کر سکتا، امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ بین الاقوامی برادری میں بھی چین کی پالیسیوں پرتشویش پائی جاتی ہے،چین دکھاوے کے لیے ذہن بنا کر آیا تھا۔ قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ واشنگٹن چین کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا لیکن کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے آصولوں کے لیے اپنے لوگوں کے لیے اور اپنے دوستوں کے لیے کھڑے ہوں گے


































