تحریر: رضا ثاقب بلوچ
انسان فطری طور پر سالم ہے، فطرت اسلام پر پیدا ہوا ہے، اسلام یعنی سلامتی۔ کسی شخص کا سلامتی و اعتدال چھوڑ کر افراط و تفریط کا شکار ہو جانا انتہائ پسندی کہلاتا ہے۔ آج ہم دہشت گردی، وحشت گردی، امن و عامہ کے مسائل، فرقہ واریت، عدم برداشت، شدت پسندی، نظم و ضبط کا فقدان وغیرہ کو انتہاءپسندی کے نتائج کے طور پر بھگت رہے ہیں۔ ہم اپنے معاشرے میں ہر سطح پر انتہاءپسندی اور انتہاءپسندوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ مذہب سے لیکر سیاست تک، تعلیم سے لیکر تجارت تک، دائیں بازو والوں سے لیکر بائیں بازو والوں تک، میڈیا سے لیکر ایوانوں تک ہر جگہ مختلف صورتوں میں انتہاء پسندی کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ غریب کو امیر اس کا دشمن لگتا جبکہ امیر کو غریب ناگوار ہے۔ ان پڑھ کو پڑھے لکھے برداشت نہیں اور پڑھا لکھا ان پڑھوں کے متعلق شدت پسند خیالات کا مالک ہے۔ داڑھی والے کو کلین شیو برداشت نہیں اور کلین شیو داڑھی والے کے متعلق شدت پسندی کا شکار ہے۔ آج انتہائ پسندی ہماری انفرادی زندگی سے نکل کر اجتماعی زندگی بلکہ ادارہ جاتی فیصلہ جات تک پہنچ چکی ہے۔
وطن عزیز میں مفادات کے حصول کے لیے انتہاءپسندی، شدت پسندی اور عدم برداشت کے فروغ کے لیے مذہب کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ہمارے ہاں آئے روز مذہبی انتہاء پسندی کا کوئی المناک واقعہ رونما ہوا ہوتا ہے۔ کبھی گوجرہ میں توہین قرآن کے نام پر اقلیتی آبادی کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے تو کبھی توہین رسالت کے نام پر ہمارے گورنر کا محافظ ہی قاتل بن جاتا ہے تو کبھی ہماری مقدس عدالت کی چاردیواری میں ایک بچہ پستول لیے کفر و ایمان کے فیصلے کرتا نظر آتا ہے تو کبھی ہمیں چارسدہ یونیورسٹی میں ایک ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوتا مشعال خان دکھائی دیتا ہے تو کبھی ہمیں عزاداری سید الشہداءؑ کے جلوسوں پر ہوتے بم حملے دکھائی دیتے تو کبھی عید میلادالنبی کی ریلیوں پر پتھراو اور فتوے نظر آتے ہیں تو کبھی وطن عزیز میں فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی قبریں جن کو فقط سوچ، فکر، نظریئے اور مسلکی اختلاف پر پچاس روپے کی گولی نے ابدی نیند سلا دیا۔
کیا یہی ایک طریقہ ہے کہ جس سے اسلام کے مذہبی وقار کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔؟ یا آیا ان سانحات کے پیچھے مبینہ توہین کے علاوہ بھی کوئی عوامل کارفرما ہیں۔؟ مذہب کے سیاسی استعمال سے انتہاءپسند طبقے مضبوط ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے تقسیم کا جواز بھی مذہبی اختلافات میں ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ یوں آج تک اٹھنے والی ہر انتہاءو شدت پسند تحریک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اور اکثریت کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتی آئی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مذہبی معاملات میں جہادی اور غیر تعمیری طرز عمل رائج ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے دانشور، مفکرین اور مصنفین اپنے نقطہ ہائے نظر کو کھل کر بیان کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال دو طرح کے کردار پیدا کرتی ہے، ایک منافقت یعنی سوچتا کچھ ہے اور بیان کچھ کرتا ہے، کیونکہ وہ انتہاءپسندوں کے ہاتھوں اپنے معاشرتی قتل سے ڈرتا ہے، اس لیے مصلحت پوشی سے کام لیتا ہے۔ منافقت کے ساتھ دوسرا کردار بغاوت کا ہے، جو تقسیم، تفرقہ اور مختلف گروہوں کی صورت ظاہر ہوتا ہے، یہ دونوں کردار کسی بھی قوم کے ارتقاء میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہمارے مدارس میں بصیرت اور جدید علوم کا فقدان ہے۔ اہل مدارس مسلکی خندقوں میں بند ہیں۔ اگر کوئی اصلاح کی بات کرے تو اسے اسلام کے خلاف سازش تصور کرتے ہیں۔ مذہب کے علاوہ سائنسی علوم و فنون میں بھی تو اختلاف ہوتے ہیں، لیکن تشدد صرف مذہب میں ہی کیوں۔؟ یہاں جاذبہ (attraction) کی بجائے دافعہ (repulsion) کیوں۔؟
بیرونی طاقتیں بھی پاکستان میں اپنے مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے مذہب کو ہی آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ریاست و عوام کے خلاف برسرپیکار قوتوں کی مالی سرپرستی بھی مذہب کے نام ہر ہی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پوری ایک معشیت معرض وجود میں آچکی ہے۔ اب یہ جنگ محض نظریاتی دائروں تک محدود جنگ نہیں بلکہ مفادات اور اپنی اپنی بقاءکی جنگ بن چکی ہے، جس کی اتحادی اور مدمقابل قوتیں قومی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر موجود ہیں۔ مذہب کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرکے معاشرے میں انتہاءپسندی، شدت پسندی اور عدم برداشت کو فروغ دینے میں نام نہاد مذہبی رہنماوں کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت نے بھی اپنے موقف کو مقبول بنانے کے لیے معاشرے میں انتہاءپسندی، جذباتیت اور ہیجان کا استعمال کیا۔ اب انتہاءپسندی ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے، جب سے وطن عزیز معرض وجود میں آیا اور جمہوری سلسلہ ہائے حکومت رواں دواں ہوا تو جمہوریے عدم برداشت سے لڑ مڑ کر اپنی چونچ تڑوا بیٹھے، تب عسکری قیادت نے قدم اٹھائے اور شدت پسندی سے آئین کی عین غین کر ڈالی۔
ذوالفقار علی بھٹو جیسا رہنماءبھی انتہاءپسندی کے سامنے بے بس ہوا۔ بعدازاں جنرل ضیاءالحق نے اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے مذہب کو معاشرے میں انتہاءپسندی، شدت پسندی، عدم برداشت اور فرقہ واریت کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ مبلغین کی ایک نئی فوج سرکاری سرپرستی میں تیار کی گئی، جنہوں نے ضعیف مذہبی روایات کو انتہاءپسندی اور عدم برداشت کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ بےشمار مدارس قائم کیے گئے، جن کا نظام عصری تقاضوں سے یکسر مختلف رکھا گیا۔ ان مدارس نے معاشرے میں انتہاءپسند اور مذہبی جنونی پیدا کیے، جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان تو کجا انسان سمجھنے کو بھی تیار نہیں۔ جنرل ضیاءالحق کی آمرانہ حکومت نے انتہاءپسندی کو عروج کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ انتہاءپسندی کی سرکاری سرپرستی میں آبیاری کی گئی اور اسلام کے نام پر مسلمانوں میں تکفیر کا ایک خطرناک سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں فرقہ واریت، قتل و غارت اور خودکش حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک تھم نہیں سکا۔ اگر انسان سالم ہے اور سلامتی کی فطرت پر پیدا ہوا ہے تو کیونکر اس میں انتہاءپسندانہ رجحانات جنم لیتے ہیں۔؟
انسانی شخصیت جسم اور روح کا مجموعہ ہے اور انسانی روح عقل و قلب سے مل کر بنی ہے۔ یہاں قلب سے مراد ہمارا وہ دل نہیں جو خون پمپ کرتا ہے بلکہ قلب انسانی احساسات (feelings) جذبات (emotions) میلانات (inclinations) رجحانات (tendencies) اور صفات (attributes) کا مرکز ہے۔ اسی طرح عقل سے مراد فزیکلی ہمارا ذہن نہیں، جو ہمارے جسم کا حصہ ہے بلکہ عقل ایک مجرد ہے، جو ہمارے فیصلوں، افکار و نظریات اور علم کا مرکز ہے اور خیر و شر میں تمیز کرتا ہے۔ انسانی علم کا بنیادی ترین ذریعہ اس کے اعضاءہیں، وہ اپنا ابتدائی علم حواس خمسہ (five senses) سے حاصل کرتا ہے، یعنی وہ بنیادی علم اور معلومات معاشرہ سے لے رہا۔ یہ بنیادی علم و معلومات انسان کے رویئے میں بدلاو لاتی ہیں اور میلانات، رجحانات، احساسات و جذبات کو جہت دیتی ہیں، یعنی انسانی احساسات و جذبات اس کے علم کے تابع ہو جاتے ہیں اور اس علم کی بنیاد پر انسان اپنے افکار و نظریات کو ترتیب دیتا ہے پھر ان افکار و نظریات کی بنیاد پر اپنی زندگی استوار کرتا ہے اور اس کے اعمال (actions) ان افکار و نظریات کے تابع ہوتے ہیں۔
پس اگر ان تنیوں ڈومینز پر متوازن کام نہیں کیا گیا تو انسان کی شخصیت متوازن نہیں رہے گی اور افراط و تفریط کا شکار ہو جائے گا۔ اگر کوئی شخص افکار و نظریات، احساسات و جذبات اور اعمال و کردار میں سے کسی ایک ڈومین میں بھی اعتدال کو چھوڑ کر افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا تو وہ انتہاءپسند کہلائے گا۔ انتہاءپسندی اور عدم برداشت کی اس مہلک وباءکے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ والدین اور نظام تعلیم آئندہ نسل کی تینوں ڈومینز (domains) جسم، عقل اور قلب کو متوازن انداز میں پروان چڑھائیں، تاکہ ایک معتدل اور عاقل (rational) نسل پنپ سکے اور ہم نسلی، مسلکی اور علاقائی تعصبات کی تنہائی سے نکل کر عالمی معاشرے کا باوقار حصہ بن سکیں۔


































