
غزہ اور غرب اردن سمیت فلسطین کے کئی علاقوں میں انتخابات ملتوی کئے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے ۔ ان مظاہروں میں فلسطینیوں نے انتخابات کرانے، قبلہ اول کی آزادی اور استقامتی محاذ کے حق میں نعرے لگائے۔
دوسری جانب حماس ایک بیان جاری کرکے فلسطین کے انتخابات ملتوی کئے جانے کو کودتا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی ذمہ داری فتح اور فلسطینی اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ حماس نے اس بیان میں کہا کہ جس طرح قدس میں غاصب صہیونی حکومت پر اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کے حوالے سے اپنی استقامت اور توانائی ثابت کی اسی طرح انتخابات کے انعقاد کیلئے بھی اس حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں ۔
اس سے قبل فلسطینی گروہوں نے اعلان کیا تھا کہ فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی راہ میں پائی جانے والی رکاوٹوں اور مسائل و مشکلات کے باوجود وہ اس بات کے حق میں نہیں ہیں کہ ان انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔
یاد رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے آج علی الصبح فلسطین کے انتخابات ملتوی کئے جانے کا اعلان کیا ۔ فلسطین کے پارلیمانی انتخابات 15 سال کے بعد 22 مئی صدارتی انتخابات 31 جولائی اور قومی کونسل کے انتخابات 31 اگست 2021 کو منعقد ہونے والے تھے۔


































