Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

امریکا دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر انسانی المیوں کا ذمہ دار ہے، رپورٹ

چین کے تحقیقاتی ادارے برائے مطالعہ انسانی حقوق نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں امریکہ کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر انسانی المیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں حالیہ دنوں مشرقی یوکرائن کی بگڑتی صورتِ حال کو بطور تازہ ترین مثال پیش کیا گیا ہے، جس کے پیچھے ایک بار پھر امریکہ کا ہاتھ نظر آرہا ہے۔
امریکہ کی بار بار مداخلت سے یوکرائن کو بڑے پیمانے پر فوجی تصادم سے دوچار ہونے کا خطرہ ہے اور امریکہ طویل عرصے سے دنیا بھر میں بدامنی پھیلا رہا ہے اور جمہوریت کے نام پر عالمی امن کو مجروح کرتا چلا آرہا ہے۔ چائنہ سوسائٹی برائے مطالعہ انسانی حقوق کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے، تقریباً تمام امریکی صدور نے اپنے دور اقتدار میں یا تو بیرونی ممالک پر جنگیں مسلط کیں یا پھر اُن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔
غیرحتمی اعداد و شمار کے مطابق، دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے لے کر 2001 تک، دنیا کے 153 خطّوں میں ہونے والے 248 مسلح تنازعات میں سے امریکہ نے 201 کا آغاز کیا، جس کی شرح تقریباً 81 فیصد ہے۔ ان جنگوں میں نہ صرف بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں بلکہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے انسانیت کی غیرمعمولی تباہی اور آفات سامنے آئی ہیں۔ اپنی جارحیت پر قانونی پردہ ڈالنے کےلیے امریکہ نے نام نہاد ’’انسانی حقوق کی بالادستی‘‘ اور ’’انسانی ہمدردی کی مداخلت‘‘ سمیت دیگر جواز تراشے ہیں۔ تاہم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ بہانے چاہے جتنے بھی خوبصورت ہوں، امریکی ناپاک عزائم اور تباہ کن نتائج کو نہیں چھپا سکتے ہیں۔ ایک جانب ان جنگوں کی وجہ سے مہاجرین کی لہریں اور دہشت گرد قوتیں یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک تک پھیل چکی ہیں جس سے ان ملکوں کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات میں بے حد اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب یکے بعد دیگرے جارح جنگوں کی وجہ سے امریکہ کی ساکھ اور اثر و رسوخ شدید متاثر ہوا ہے اور بین الاقوامی برادری نے وسیع پیمانے پر امریکہ پر تنقید کی ہے ۔
رپورٹ کے اختتام پر سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کیسنجر کی کتاب ’’امریکہ کی عالمی حکمتِ عملی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ بالادستی کا دانستہ تعاقب بالآخر ایک عظیم ملک کی حیثیت سے امریکہ کی پوری اقدار کو ختم کردے گا۔

مزید پڑھیے

Most Popular