تحریر: ڈاکٹر راشد عباس
جوانی کا دور اگرچہ زیادہ طولانی نہیں ہوتا، لیکن ہمیشہ یادگار اور ناقابل فراموش ہوتا ہے۔ نوجوان ہر دور اور ہر معاشرے کا متحرک کردار شمار ہوتے ہیں اور تاریخ شاید ہے کہ جس معاشرے میں نوجوان بیدار ہوئے، اس معاشرے، ملت اور قوم نے ترقی کی منازل طے کیں۔ صدر اسلام کی تاریخ کا بھی اگر جائزہ لیا جائے اور رسول خدا نے جب توحید اور وحدانیت کا پرچم بلند کیا تو نوجوانوں نے آگے بڑھ کر ساتھ دیا۔ نوجوان عام طور پر اپنے جوش و جذبے اور فکری سطح کے حوالے سے خام، سادہ اور پاکیزہ قلب و ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ صدر اسلام میں بھی یہی کچھ ہوا کہ نوجوان اسلامی تعلیمات کی طرف کھچے چلے آئے اور وہ دین اسلام کو صدق دل سے قبول کرتے ہوئے اس توحیدی دین کی تبلیغ اور ترویج میں مصروف ہوگئے۔ نوجوانوں کی اس فعالیت اور سرگرمی کے تناظر میں رسول خدا کی ایک حدیث مبارکہ نقل کی جاتی ہے۔ آپ نے اس دور میں جب آپ کی دعوت توحید پر نوجوانوں نے لبیک کہا تو آپ نے ارشاد فرمایا "خدا نے مجھے بشیر و و نذیر خلق کیا، جوانوں نے میرے ساتھ عہد باندھا اور بوڑھے میری مخالفت پر اتر آئے۔”
ایران کے اسلامی انقلاب کے حوالے سے بھی جب بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے عدل و انصاف کا پرچم بلند کیا اور معنویت، روحانیت اور عقلانیت پر مبنی انقلابی تحریک کا آغاز کیا تو سب سے پہلے لبیک کہنے والے اس دور کی نوجوان نسل ہی تھی۔ امام خمینی ہمیشہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کو نوجوانوں کی مرہون منت قرار دہتے ہوئے فرماتے تھے۔ اے نوجوانوں آپ نے اپنی قوت ایمانی سے اس تحریک کو یہاں تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ پس اس ایمانی طاقت کی حفاظت کرو۔ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: اے ملت ایران کی نسل جوان آپ پر سلام ہو۔ آج اسلامی تحریک جو یہاں تک پہنچی ہے، آپ کی محنت، جدوجہد اور بلند حوصلوں کا نتیجہ ہے۔ آج جو کامیابی نصیب ہوئی اور ایران سے برائی کی جڑ اکھاڑ دی گئی ہے، وہ آپ کی بدولت ہے اور آپ نوجوانوں کی ہمت و کوشش سے آئندہ بھی یہ مملکت ان شاءاللہ برائی و فساد سے محفوظ رہے گی۔
رضا شاہ پہلوی کے دور میں اگرچہ ایران میں آبادی کے لحاظ سے نوجوانوں کی اکثریت تھی، لیکن شاہ کے استبداد اور آمریت کی وجہ سے نوجوانوں کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں مسدود کر دی گئی تھیں۔ شہنشاہی دور میں نوجوانوں کی مثبت صلاحیتوں سے استفادے کی بجائے انہیں منفی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کیا جاتا تھا۔ وہ نوجوان نسل کو ایسی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی قائل تھے، جس کی بدولت وہ حکومتی مسائل اور شاہی حکومت کی سیاسی خباثتوں کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ حکومت کے بڑے بڑے فیصلے خفیہ طریقے سے انجام پا جاتے تھے اور نوجوان نسل سمیت عوام میں سے کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی تھی۔ امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا تو انھوں نے عوام بالخصوص نوجوان نسل کو اپنا پہلا مخاطب قرار دیا۔ آپ نے نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات کی طرف متوحہ کرتے ہوئے ان کی ذمہ داریوں آگاہ کیا اور فریضہ کے انجام دینے کے لیے میدان میں وارد ہونے کی دعوت دی۔
آپ کے خطابات، تقاریر اور بیانات نوجوان نسل کے اندر تحرک اور بیداری کا باعث بنے اور بہت جلد نوجوانوں کے گروہ در گروہ اس تحریک میں شامل ہو گئے اور انہوں نے مخفی و اعلانیہ اپنی گرمیوں کا آغاز کر دیا۔ ایران کی نوجوان نسل نے علمائ اور دانشوروں کی سرگردگی میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور انقلاب کی کامیابی سے دو سال پہلے ایران کے نوجوان ایک پختہ اور سنجیدہ نسل بن کر سامنے آئے اور انھوں نے انقلابی سرگرمیوں کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے لی۔ ایران کی نوجوان نسل نے اسلامی سلوگن من جملہ آزادی، استقلال، عدل و انصاف اور سامراجی دشمنی کے نعروں سے اپنی تحریک کو آگے بڑھایا۔ ایران کی نوجوان نسل اس طرح ایک فائدہ مند اور قیمتی طاقت بن کر معاشرے میں ابھری اور 1978ءیعنی انقلاب کی کامیابی سے صرف ایک سال پہلے نوجوانوں کی تحریک، اسلامی انقلاب کے ہراول دستے میں تبدیل ہوگی۔
انقلاب کی تاریخ شاید ہے کہ اسلامی انقلاب کی تشکیل و تاسیس میں نوجوانوں کا کردار اساسی و بنیادی رہا ہے۔ بڑے بڑے مظاہرے نوجوانوں کے ذریعے انجام پائے۔ گلی گلی و محلے محلے امام خمینی کا پیغام پہنچانے کے لیے چھوٹے چھوٹے دستوں کی تشکیل نوجوان نسل کا ہی کارنامہ تھا۔ انقلاب کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد نومبر 1979ءمیں یونیورسٹی کے نوجوان طلباءنے امریکی سفارتخانے پر قبضہ کرکے اسلامی انقلاب کے استحکام میں ایک موثر کردار ادا کیا۔ امریکی سفارتخانے جسے بعد میں جاسوسی کا مرکز قرار دیا گیا پر قبضہ اتنی اہمیت کا حامل تھا کہ بانی انقلاب اسلامی نے اسے دوسرے انقلاب سے تعبیر کیا۔ انقلاب کے دوران اور انقلاب کی کامیابی کے بعد نوجوان نسل نے مساجد، امام بارگاہوں اور دینی و تعلیمی اداروں کو اسلامی انقلابی تعلیمات سے آباد کیا۔ نوجوان نسل ہی کی بدولت یونیورسٹی اور دینی مدارس ایک دوسرے کے قریب آئے اور دونوں نے ملکر انقلاب کے لیے خدمات سرانجام دیں۔
نوجوانوں نے شہروں، دیہاتوں اور مختلف دینی و ثقافتی اداروں میں اسلامی ثقافتی اور دینی یونٹس تشکیل دے کر عوام کو انقلابی تحریک کا ہم سفر بنانے میں کلیدی کردار انجام دیا۔ عالمی سامراجی سازشوں کے نتیجے میں ڈکٹیٹر صدام نے جب ایران کے نوخیز اسلامی انقلاب کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا تو بڑوں کے ساتھ نوجوان نسل بھی میدان جنگ میں شامل ہوگی۔ تیرہ تیرہ چودہ چودہ سال کے نوجوان دینی شوق و جذبے سے سرشار ہو کر فوج و ملت کے دفاع کے لیے میدان میں اتر آئے۔ محاذ جنگ پر جانے کے لیے بے تاب یہ نوجوان نسل اپنی تاریخ پیدائش میں تبدیلیاں کرکے محاذ جنگ پر پہنچنے لگی۔ ایران کے خلاف مسلط کردہ اس جنگ میں نوجوانوں کا کردار سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل ہے۔ اس جنگ میں نوجوان نسل کی شرکت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محاذ جنگ پر اکثر کمانڈروں کی عمریں 25 سال سے کم تھیں۔ ان نوجوانوں نے یونیورسٹی اور کالجوں کی تعلیم کو خیرباد کہہ کر دین و وطن کے دفاع کے لیے اپنا کیئریر اور مستقبل بھی داﺅ پر لگا کر محاذ جنگ کا رخ کیا۔
شہید باقری، شہید علم الہدیٰ، شہید زین الدین جیسے عظیم شہداءیونیورسٹی سے محاذ جنگ پر گئے تھے۔ رہبر انقلاب اسلامی مقدس دفاع کے دوران جنگ میں شریک ایرانی نوجوانوں کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عبادت، خردمندی، تدبیر۔ دلیری، شجاعت، فداکاری، قربانی و ایثار، بصیرت اور فریضہ کی ادائیگی وہ بنیادی صفات تھیں، جو ان جوانوں کی ذات کا حصہ تھیں۔ یہ نوجوان دن کے بہادر و دلیر، شیر اور رات کے شب بیدار عابدو زاہد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے اپنی گہری نگاہ سے ان نوجوانوں کی تربیت کو فتح الفتوح قرار دیا۔ ایران کی نوجوان نسل نے جس طرح انقلاب کی کامیابی و کامرانی میں موثر کردار ادا کیا۔ آج اس انقلاب کے تسلسل اور تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں نے اپنی خدمات اور فریضے کی ادائیگی سے اسلامی انقلاب کا بیمہ کر دیا ہے۔
ایران و عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ میں جہان لاکھوں شہداءکی قربانی دی گئی، وہاں صدامی حملوں کی وجہ سے ملک کا انفراسٹرکچر بھی بری طرح تباہ ہوگیا تھا۔ جنگ کے بعد انہی نوجوانوں نے ملک کی تعمیر نو کے لیے کمر ہمت باندھی اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہوگئے۔ آج ایران ترقی و پیشرفت کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ ایران میں تعمیر نو کے بعد جنگ کی تباہی کے آثار بھی باقی نہیں رہے ہیں اور بلاشک و شبہ ان تمام کامیابیوں اور کامرانیوں میں نوجوان نسل کا کردار بنیادی و اساسی ہے۔ ایران نے گذشتہ چند سالوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ مختلف شعبوں میں ایران کی یہ کامیابیاں اسلامی انقلاب کی کامیابیاں ہیں اور اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب جن امنگوں اور اہداف کے لیے وقوع پذیر ہوا تھا، اس کی جانب تیزی سے سفر جاری ہے اور ترقی و پیشرفت کے اس سفر میں نوجوانوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ نوجوانوں نے امام خمینی کے فرمان "ہم کرسکتے ہیں” کو عملی شکل دے کر انقلاب دشمن طاقتوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔
آخر میں یہ عرض کرتے چلیں کہ ایرانی نوجوانوں نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل اور مثالی نمونے پیش کر دیئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ کے نوجوان بھی اس راستے کو اپناتے ہوئے دین اسلام اور ایک عالمی اسلامی حکومت کے قیام کے لیے اپنا فریضہ ادا کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایران کے انقلابی، مومن اور مکتبی نوجوانوں کی کوششوں، قربانیوں اور ایثار کے نتیجے میں منزل مقصود تک پہنچا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد نوجوان نسل میدان عمل میں رہی اور اس نے اس اسلامی انقلاب اور نظام کے راستے میں ہر رکاوٹ کا بہترین انداز میں مقابلہ کیا۔ دفاع مقدس ہو، ملک کی تعمیر نو ہو یا علمی و اقتصادی میدان، نوجوان انقلابی نسل ہر میدان میں صف اول میں موجود رہی۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد محروم علاقوں اور مستضعف طبقے پر خصوصی توجہ دی گئی اور نوجوان نسل نے اس میدان میں بھِی اپنی خدمات پیش کیں اور بغیر کسی معاوضے اور پیسے کے محروم علاقوں میں جا کر اپنی خدمات پیش کیں۔
جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ ایران کی نوجوان انقلابی نسل نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اپنے سفر کو جاری رکھا اور علم و صنعت کے شعبے میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں اور یہ سلسہ بدستور جاری و ساری ہے۔ بانی انقلاب اسلامی نوجوانوں سے خصوصی محبت و انس رکھتے تھے اور آپ نوجوانوں پر بہت زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ایرانی حکام کو تاکید کی تھی کہ نوجوان نسل کو ملکی ترقی کے ہر شعبے میں استعمال کریں اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو آشکار کرکے ملک کی تعمیر و ترقی میں ان سے بھرپور استفادہ کریں۔ امام خمینی نے عالمی اقتصادی پابندیوں کے عروج کے زمانے میں "we can do ہم کرسکتے ہیں” کا انقلابی نعرہ بلند کیا اور نوجوانوں نے اس سلوگن پر ایمان لاتے ہوئے اسے عملی کرکے دکھا دیا۔ امام خمینی نے "ہم کرسکتے ہیں” کا شعور اور حوصلہ دے کر نوجوان نسل کے قلب و ذہن میں آگے بڑھنے کا ایسا حوصلہ پیدا کر دیا کہ آج ایرانی نوجوان ہر میدان مین اس کو عملی طور پر ثابت کر رہی ہے۔
صدام کی مسلط کردہ جنگ میں انہی نوجوانوں نے "ہم کرسکتے ہیں”، "ہم انجام دے سکتے ہیں” کے نعرے کو اپنا نصب العین قرار دیا اور صدامی فورسز کو جسے مشرق و مغرب دونوں کی حمایت حاصل تھی، شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔ بانی انقلاب اسلامی کی طرح رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی نوجوانوں پر بہت زیادہ بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں۔ آپ ان کو اپنے فرزند اور بیٹے قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے گام دوم کے نام سے جاری اپنے بیانیہ میں نوجوان نسل کو اپنا اصلی مخاطب قرار دیا ہے۔ آپ نے ایران کی ترقی و پیشرفت کو ایران کی نوجوان نسل کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ آپ نوجوانوں کو انقلاب اسلامی کی ترقی کا ضامن قرار دیتے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نوجوانوں پر کس قدر اعتماد ہے اور وہ ان سے کیسی امیدیں رکھتے ہیں۔
ربیر انقلاب اسلامی نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ میں جب بھی نوجوانوں کے درمیان بیٹھتا ہوں، بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ تو سب سے پہلے خداوند عالم کا شکر ادا کرتا ہوں، کیونکہ قرآن کی آیت کے مطابق ہمیں جو نعمت بھی میسر ہے، خداوند عالم کی عطا کردہ ہے۔ آپ نے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا آپ لوگ میرے لیے نعمت خدا ہیں۔ آپ انقلاب کے لئے درد رکھنے والے افراد کے لیے عطیہ الہیٰ ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی بھی نوجوانوں کو ملک کی اہم ذمہ داریاں دینے پر یقین رکھتے ہیں اور "ہم کرسکتے ہیں” کے سلوگن کے ساتھ نوجوانوں پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ملک کی ذمہ داریاں انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کو منیجمنٹ کی دنیا میں مواقع فراہم کرنے چاہیئں۔ ان میں "ہم انجام دے سکتے ہیں” کا حوصلہ مستقل کرنا چاہیئے۔ یہ نسل عالمی پابندیوں اور مشکلات کے سخت ترین دور میں پروان چڑھی ہے یہ بیرونی طاقتوں پر بھروسہ کیے بغیر اپنے بل بوتے پر کارہائے نمایاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


































