
یکم جولائی کو منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہوسکا، فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیانے کی کوشش کی تو وہ میدان جنگ بن جائے گی،فلسطینی تنظیموں کا انتباہ
صیہونی حکومت کے مقابل ڈٹ جانا اور استقامت کا استحکام ضروری ہے، مزاحمتی تنظیمیں،فلسطینیوں کو تین جانب سے مسلط کردہ جنگ کا سامنا ہے،اسماعیل ہنیہ
مقبوضہ بیت المقدس (نیوز ڈیسک)اسرائیلی حکومت نے اندرونی اختلافا ت کی وجہ سے الحاقی منصوبہ موخر کردیا، اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنزی نے واضح کیا کہ غرب الاردن کے انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی کو عملدرآمد موخر کردیا گیا ہے ،اس کی وجہ اسرائیلی حکومت کے اندرونی اختلافات ،فلسطینی تنظیموں اور بین الاقوای دباو قرار دیا جارہا ہے ،ادھرحماس ، جہاد اسلامی اور عوامی محاذ نے بڑے پیمانے پر استقامت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر دشمن نے سرزمین فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیانے کی کوشش کی تو وہ صیہونی دشمن کے خلاف میدان جنگ بن جائے گی ،مشترکہ بیان میں صیہونی حکومت کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور استقامت کے استحکام کو ضروری قرار دیاگیا اور کہا گیا کہ غاصب حکومت کے ساتھ تمام سیکورٹی، سیاسی اور اقتصادی سمجھوتوں کومنسوخ کردیا جائے ، ہمارا اتحاد، دشمنوں کے خلاف جنگ کے میدان میں عملی شکل میں ظاہر ہوگا،ا±دھر حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اس وقت امریکا اور صیہونی حکومت کی جانب سے مسلط کی جانے والی سہ جانبہ جنگ کا سامنا ہے ، غرب اردن کواسرائیل میں ضم کرنے کا پہلا ہدف نسل پرستانہ سوچ کو تقویت دے کر فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کاراستہ ہموار کرنا ہے ، دوسرا مقصد گریٹر یروشلم کے منصوبے پرعملدرآمد کرنا اور تیسرا مقصد آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے تمام راستے کو بند کرنا ہے۔


































