اسرائیلی بمباری اور گولہ باری سے غزہ کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں ،200سے زائد شہید، 85 بچے اور 34خواتین شامل، 6ہزار کے قریب زخمی،50ہزار سے زائد افراد گھروں کو چھوڑنے پر مجبور
، سڑکیں ، اسپتال ، اسکول ، کارخانے ، سرکاری عمارتیں تباہ، استقامتی محاذ کا بھرپور جواب، تل ابیب سمیت تمام شہروں میں راکٹ حملوں سے تباہی،ساڑھے تین ہزار سے زائد راکٹ داغے گئے
غزہ(نیوز ڈیسک) اسرائیل کی بدترین جارحیت نے غزہ کو کھنڈر بنادیا،لیکن مسلم حکمران صرف بیانات داغتے رہے، غزہ پر جمعتہ الوداع سے جاری جارحیت میں اب تک دو سو سے زائد فلسطینی شہیداور 6ہزار کے قریب زخمی بمباری سے 90 عمارتیں تباہ اور 6 رہائشی و تجارتی ٹاورز زمین بوس ہوچکے ہیں ،اسرائیلی بمباری اور گولہ باری سے غزہ کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہا، 50ہزار سے زائد افراد گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں ، سڑکیں ، اسپتال ، اسکول ، کارخانے ، سرکاری عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں ،دو ہفتوں سے جاری خوفناک بمباری نے غزہ کو کھنڈر بنادیا، اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں دوسری بلند عمارت برج الجلا کو میزائل سے نشانہ بنا کرتباہ کردیا ، برج الجلا کو چار میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی بمباری کے باعث عمارت زمین بوس ہوگئی ، برج الجلا کے رہائشیوں ، دفاتر میں موجود افراد کو عمارت خالی کرنے کے لئے 10 منٹ کی مہلت دی گئی تھی،برج الجلا میں رہائشی فلیٹس اور میڈیا ہاوَسز کے دفاتر تھے،اسرائیل نے فلسطینی وزارت اوقاف،اسلامی یونیورسٹی،ہلال احمر کادفتر،کورونا وائرس کا واحد اسپتال اور کئی دیگر اہم عمارتیں بھی تباہ کردیں ، اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے مخصوص مکانات کو نشانہ بنایا،اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے غزہ میں برج المہند کی بلند عمارت کو نشانہ بنانےکی دھمکی دی تھی،اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں نے حماس کی صلاحیتوں کو کئی سالوں تک کیلئے کمزور کر دیا ہے ، غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، استقامتی محاذ نے صیہونی حکومت کے جرائم کا بھرپور جواب دیا ہے اور اسرائیل کے دارلحکومت تل ابیب، عسقلان اور سدیروت سمیت تمام ہی مقبوضہ شہروں پر راکٹ داغے ،جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ہزاروں اسرائیلی تہہ خانوں میں چھپے ہوئے ہیں ،راکٹ حملوں میں 12اسرائیلی ہلاک اور 300سے زائد زخمی ہوچکے ہیں ،اسرائیلی فوج نے حماس کی طاقت کا اعتراف کیا ، حماس نے ساڑھے تین ہزار سے زائد راکٹ اسرائیل پر داغے جو ایک ریکارڈہے ،10مئی سے جاری بدترین جارحیت کے باوجود مسلم حکمرانوں نے سوائے بیانات داغنے کے کوئی عملی کام نہیں کیا،او آئی سی ،عرب لیگ ،خلیج تعاون کونسل سمیت کسی مسلم تنظیم یا ملک کی جانب سے اسرائیل کیخلاف عملی اقدامات کی بات نہیں کی گئی یہاں تک کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ترکی ،عرب امارات ،بحرین سمیت کسی اسلامی ملک نے
یلی سفیر کو طلب کرکے احتجاج تک ریکارڈ نہیں کرایا۔


































