کسی خلیجی شہری نے فلسطین میں شہادت پیش کی تو رائے بدل دوں گا،طارق خوری
عمان(نیوز ڈیسک ) اردن کے رکن پارلیمنٹ طارق خوری کے مضمون نے ملک کی سلفی جماعتوں اور گروہوں کو خوف زدہ کر دیا،انہوں نے اپنے مضمون میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا فلسطین سے غدار ی ،لیبیا کو تباہ اورعراق، شام، سعودی عرب میںخودکش حملے کرنیوالے شیعہ تھے ؟ کیا القاعدہ، داعش اور جبہةالنصرہ سب شیعہ ہیں؟کیاقرضاوی شیعہ ہے، جس نے ہر حرام کو حلال کر دیا ہے؟،انہوں نے لکھا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی ، لیبیائی ، تیونسی وغیرہ ہر روز خود کش کاروائیاں کرتے ہیں ،کیوں اہل سنت شاہ ایران کے ساتھ کوئی مخالفت نہیں رکھتے تھے جبکہ شاہ بھی شیعہ تھا؟ آپ حزب اللہ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ کیوں فلسطین کو آزاد نہیں کراتے جبکہ وہ ایک گروہ اور مختصر فورس ہیں لیکن دوسری طرف عرب اور اسلامی حکومتیں یہودیوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہیں، میں نے اپنی رائے دی ہے ، جب کسی خلیجی شہری نے مقبوضہ فلسطین میں اپنی شہادت پیش کی تو اس دن میں اپنی رائے بدل دوں گا،جب میں یہ دیکھوں کہ داعش اور القاعدہ کا پرچم اسرائیل کی پارلیمنٹ پر لہرا رہا ہے اور عرب ممالک نے اسرائیلی سفارتخانے بند کر دئیے ہیں اس دن میں یقین کر لوں گا کہ میں نے غلط کہا اور میں اپنے لفظوں کو واپس لے لوں گا
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- اردنی رکن پارلیمنٹ کے مضمون نے عربوں میں ہلچل مچادی
اردنی رکن پارلیمنٹ کے مضمون نے عربوں میں ہلچل مچادی
-
Ilyas - دسمبر 16, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 11
- 0 minute read


































