تحریر: تصور حسین شہزاد
حکومت کی جانب سے ملک میں قیامِ امن اور مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے "پیغام پاکستان” کی روشنی میں نیا 20 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق گذشتہ روز (منگل) کو اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام اسلام آباد میں پیغام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے جید علماءکرام نے شرکت کی، میں جاری کیا گیا۔ اس ضابطہ اخلاق پر وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، علامہ ساجد میر، قاری حنیف جالندھری، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ عارف واحدی، قبلہ ایاز، علامہ افتخار حسین نقوی، سید ضیاءاللہ بخاری، مولانا عبدالمالک، علامہ راجہ ناصر عباس، فقیر محمد، نقیب الرحمان، ڈاکٹر معصوم یاسین زئی سمیت دیگر کے دستخط ہیں۔ اس ضابطہ اخلاق میں بہت خوبصورت نکات شامل کئے گئے ہیں۔ دستاویز کے طور پر یہ تحریر ایک بہت ہی عمدہ اور خوبصورت ہے۔
اس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کسی پر اپنا عقیدہ مسلط نہیں کیا جائے گا، اس مقصد کیلئے جبر کا استعمال بغاوت سمجھی جائے گی۔ (یاد رہے کہ بغاوت کی سزا موت ہے)۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کسی پر جبراً اپنا عقیدہ مسلط کرنا شریعت کی روح کیخلاف ہے۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا کسی کو حق نہیں۔ ضابطہ اخلاق کی شق نمبر 9 میں لکھا گیا ہے کہ انتہاءپسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والے خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہوں، کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ شق نمبر 10 میں رعایت دی گئی ہے کہ اسلام کے تمام مکاتب فکر کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ کریں، مگر کسی کو کسی شخص، ادارے یا فرقے کیخلاف نفرت انگیزی اور اہانت پر مبنی جملوں یا بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
شق نمبر 11 کہتی ہے کہ کوئی شخص خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ(ص) و جملہ انیبائے کرامؑ، امہات المومنین (رض)، اہلبیت اطہارؑ، خلفائے راشدین (رض) اور صحابہ کرام (رض) کی توہین نہیں کرے گا، کوئی فرد یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا اور نہ ہی توہین رسالت کے کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ شق نمبر 12 میں کافر کافر کے نعرے لگانے سے روکا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرے گا۔ مسلمان کی وہی تعریف معتبر ہے جو دستورِ پاکستان میں ہے۔ شق نمبر 14 میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی نصاب میں اختلاف رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا۔ شق نمبر 19 میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص مساجد، منبر و محراب، مجالس و امام بارگاہوں میں نفرت انگیز تقریر نہیں کرے گا، فرقہ وارانہ موضوعات کے حوالے سے اخبارات، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو نہیں کرے گا۔
اس ضابطہ اخلاق پر مفتی منیب الرحمان کے بھی دستخط ہیں اور یہی مفتی صاحب روزنامہ دنیا میں اپنے کالمز میں مسلسل بنو ا ±میہ کی وکالت کر رہے ہیں اور مخالف فرقہ کے جذبات سے کھیل رہے ہیں، ا ±مید ہے کہ وہ اس ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنے کے بعد دنیا اخبار میں اپنے کالمز میں نرمی لائیں گے۔ اس ضابطہ اخلاق سے پہلے بھی بہت سے ایسے اقدامات ہوئے ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم بھی اس مقصد کیلئے بنایا گیا، اسلامی نظریاتی کونسل بھی موجود ہے، پیغام پاکستان کی دستاویز پر دستخط کئے گئے۔ بذاب خود آئین پاکستان موجود ہے، جس میں تمام مذہبی ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ آپریشن ردالفساد اور آپریشن ضرب عضب بھی قیام امن کیلئے کئے گئے اور دہشتگردوں کا صفایا کیا گیا، مگر اس کے باوجود یہ تکفیری ایسی کون سی مخلوق ہیں، جو برساتی مینڈکوں کی طرح ایک دم نکلتے ہیں، ملک کی فضا خراب کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔
اس ضابطہ اخلاق پر جن علماءنے دستخط کئے ہیں، وہ معتدل علماءہیں۔ مذکورہ علماءکا ریکارڈ موجود ہے کہ سوائے ایک عالم دین کے اس ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنیوالے کسی عالم نے کبھی فرقہ وارانہ گفتگو نہیں کی، کسی کی تکفیر نہیں کی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس میں ان شرپسندوں کو شامل کیا جاتا اور ان کے دستخط کروائے جاتے تو پتہ چلتا کہ ریاست نے کام کیا ہے، جو مخالفین کی تکفیر کرتے ہیں، کافر کافر کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہ دستخط کرنیوالے وہ علماء ہیں، جو شرپسندوں کے دباو میں آجاتے ہیں۔ کراچی کے ایک مفتی صاحب نے ایک جمعہ کے خطبے میں مخالف فرقے کو مسلمان اور اپنا بھائی قرار دیا، اگلے جمعہ تکفیری گروہ کے دباو میں آکر اپنے بیان کو واپس لے لیا۔ تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دستخط کرنیوالے علماءتو بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تو تکفیریوں کی دباو میں آ جانیوالے ہیں۔ یہ کیسے قیام امن میں کردار ادا کریں گے۔؟
اگر ریاست واقعی ملک میں قیام امن میں مخلص ہے، واقعی ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں سنجیدہ ہے تو شرپسندوں کو ضابطہ اخلاق میں لائے، اس ضابطہ اخلاق پر مولانا احمد لدھیانوی، اورنگزیب فاروقی، مولانا منظور مینگل، معاویہ اعظم طارق اور اس قبیل کے دیگر لیڈروں سے دستخط کروانے تھے۔ اصل میں متنازع گفتگو اور مخالف فرقے کی تکفیر کیلئے مبینہ طور پر ان لوگوں کے نام ہی ہمیشہ سامنے آتے ہیں۔ اس لئے جب تک یہ لوگ کسی ضابطے میں نہیں آتے، تکفیر کا سلسلہ نہیں رک سکتا۔ دوسری جانب واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ مبینہ طورپر تکفیری رہنماو ¿ں کو بھارت کی جانب سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارت ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا کیس خراب کرنے کی تیاری کرچکا ہے، اس لئے ہی بھارت نے 2 عرب ملکوں کے ذریعے پاکستان کے تکفیروں کو فنڈنگ کی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں فرقہ وارانہ فضا پیدا کرکے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کیخلاف موثر ثبوت پیش کرنا ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد فعال ہیں۔
مذکورہ شرپسند جو ریلیاں نکالتے پھر رہے ہیں اور متنازع تقریریں کرتے ہیں، یہ سارے کالعدم جماعتوں کے رہنما ہیں، مگر حکومت نے ان کی جماعتوں کو کالعدم قرار دے کر انہیں کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ درندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے درندوں کو تو چھوڑ دیا جائے، ان کے ٹھکانے تباہ کر دیئے ہیں اور سمجھ لیا جائے کہ درندگی ختم ہو جائے گی، تو یہ حکومت کی ب ±ھول ہے۔ درندگی درندوں کو ختم کرنے سے ختم ہوگی، ان کے ٹھکانے توڑنے سے نہیں۔ اس لئے ریاستی ادارے ان تکفیریوں کی سرکوبی کریں، جو بھارت کیلئے آلہ کار بن کر پاکستان کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ جب تک ان کی سرکوبی نہیں ہوگی، پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی لٹکتی رہے گی اور ملک میں فرقہ واریت کا جن بھی قیمتی جانیں نگلتا رہے گا۔


































