
صوبہ بنانے کی وزارت خارجہ سمیت تمام متعلقہ اداروں سے منظوری مل چکی ہے، صرف اعلان کا مرحلہ باقی ہے، عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا،جاوید حسین
عبوری آئینی صوبہ بنانے کے فیصلے سے گلگت بلتستان کے عوام کا نہ صرف دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا بلکہ جی بی کے عوام کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ بھی ہوگا
گلگت بلتستان(نیوز ڈیسک) گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ ہو گیا، وزارت خارجہ سمیت تمام متعلقہ اداروں نے صوبہ بنانے کی منظوری دیدی ہے، اب صرف اعلان کا مرحلہ باقی ہے ،اس بات کا دعویٰ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے سینئر رہنما و سابق رکن اسمبلی جاوید حسین نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کیا، انہوں نے کہا کہ عبوری صوبے کے اعلان کے بعد باقاعدہ آئین میں ترمیم کیلئے بل قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرکے نواز شریف عبوری آئینی صوبے کا اعلان کرتے تو کریڈٹ مسلم لیگ نون کو مل جاتا اب اگر پی ٹی آئی حکومت اعلان کرے گی تو اس کا کریڈٹ بھی اسے ہی جائے گا، انہوں نے کہا ہے کہ جی بی کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے فیصلے سے گلگت بلتستان کے عوام کا نہ صرف دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا بلکہ جی بی کے عوام کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ بھی ہوگا ، جو لوگ آئینی صوبے کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک دشمن اور مودی کی زبان بولتے ہیں، مودی بھی چاہتا ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہ ملیں، تاکہ محرومیوں کے نام پر انہیں جی بی میں ایجنٹ ملتے رہیں ، مقتدر قوتوں نے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عبوری آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔


































