
بلوچستان کے گورنر امان اللہ خان یاسین زئی نے پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ایران جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے آٹھویں اختتامی اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لوگوں میں خوشگوار اور قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کیا جائے گا۔ گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پڑوسی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے عوام بھی قریبی تجارتی تعلقات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ زاہدان میں پاکستانی قونصل جنرل محمد رفیع اور کوئٹہ میں ایرانی قونصل جنرل حسن درویش سمیت دیگر متعلقہ حکام نے بھی اس 2روزہ اجلاس میں شرکت کی۔
پاکستان کی جانب سے اجلاس میں موجود بلوچستان کسٹمز کلیکٹر عبدالوحید مروت کا کہنا تھا کہ اجلاس کے نتیجہ خیز نتائج کے طور پر دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون میں اضافہ ہوگا۔ عبدالوحید کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے نشاندہی کی گئی مشکلات کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے گا. اس موقع پر ایرانی وفد کی قیادت کرنے والی سیستان و بلوچستان کی اقتصادی رابطہ امور کی ڈپٹی گورنر مندانا زنگانے کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں دوطرفہ تجارت میں دونوں ممالک کے تاجروں کو پیش آنے والی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پاکستان اور ایران کی جانب سے شامل شرکاء نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ مندانا زنگانے کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس دونوں طرف سے مطلوبہ تجارتی اہداف حاصل کرنے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔


































