تحریر: سید اسد عباس
گذشتہ قسط میں ہم نے جانا کہ یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا، تحریک آزادی کشمیر کا کچھ حوالہ بھی دیا گیا۔ آزادی کشمیر کی راہ میں حائل حقیقی رکاوٹوں کے حوالے سے کشمیری راہنماءشیخ تجمل الاسلام کا موقف بھی آپ کے سامنے پیش کیا۔ آج ہم اسی نشست کی چند مزید اہم باتوں کو اور اس سے متعلق تفصیلات کو قارئین کی خدمت پیش کریں گے۔ میری اس نشست میں کوشش رہی کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہر موضوع پر بات کی جائے، تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔ اسی وجہ سے شیخ تجمل الاسلام کے ساتھ ہماری یہ نشست تفصیلی تھی۔ شیخ تجمل الاسلام جموں و کشمیر میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہے، وکالت کی سند حاصل کرنے کے بعد سری نگر کی عدالت سے پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کیا اور پھر کئی ایک رسالوں کے مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ شیخ صاحب انقلاب اسلامی ایران کے حامیوں میں ایک موثر اور مضبوط آواز تھے۔
تحریک آزادی کے ہراول دستہ میں رہنے کی وجہ سے شیخ صاحب متعدد بار قید و بند کے صعوبتوں سے گزرے اور آخر کار مقبوضہ وادی سے ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے۔ اس وقت شیخ صاحب کو مقبوضہ وادی اور پاکستانی عوام کے مابین رابطے کا پل قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک عرصے سے کشمیر میڈیا سروس کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی کی تاریخ، تحریک آزادی کے نشیب و فراز اور وادی میں ہونے والی سازشوں سے آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے لے کر علاقائی سیاست تک شیخ صاحب ہر چیز کا علم رکھتے ہیں۔ میری نظر میں مسئلہ کشمیر کو سمجھنے والے افراد جو پاکستان میں دستیاب ہیں، ان میں شیخ صاحب کا نام سرفہرست ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اپنے مطالعات کے دوران میں مجھے علم ہوا کہ قیام پاکستان سے قبل قادیانی تحریک کا رجحان کشمیر کی جانب تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وادی کشمیر کو اپنے مرکز کے طور پر اختیار کریں۔
اس حوالے سے جب شیخ صاحب سے سوال کیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کشمیریوں کی پہلی تنظیم مسلم کانفرنس میں قادیانیوں کا کافی اثر و رسوخ تھا۔ کشمیر کے حوالے سے بننے والی پہلی کشمیر کمیٹی کے سربراہ قادیانیوں کے خلیفہ تھے۔ شیخ صاحب کے مطابق کشمیر میں ہونے والے سانحے جس میں 22 مسلمان شہید ہوئے تھے، میں کشمیر کمیٹی کے سربراہ نے پورے ہندوستان میں احتجاج کی کال دی۔ تاہم بعد میں لوگ اس نفوذ کو بھانپ گئے، جن میں اہم ترین شخصیت میر واعظ مولانا یوسف شاہ صاحب تھے۔ شیخ صاحب کے مطابق مولانا نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ تحریک میں قادیانیوں کا نفوذ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد مسلم کانفرنس کی صفائی کی گئی اور ان کے اثرات زائل ہوگئے۔ 1947ءکے بعد کی تحریک میں قادیانیوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔
مقبوضہ وادی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں متعدد ہیں، جو قرارداد نمبر 38، 39، 47، 51، 80، 91، 96، 122، 123، 126 شامل ہیں، یہ قراردادیں 1948ءتا 1957ءمختلف عرصوں میں منظور ہوئیں۔ ان قراردادوں کے بارے میں ہمارے معاشرے میں ایک بحث ہے، جس کے مطابق اگر یہ قراردادیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 7 کے تحت منظور ہوتیں تو ان پر عمل درآمد اقوام متحدہ یا سکیورٹی کونسل پر لازم ہوتا جبکہ اس وقت یہ قراردادیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 6 کے تحت آتی ہے، جس پر عمل درآمد اقوام متحدہ پر لازم نہیں۔ اس بحث سے ایک تاثر یہ ابھرتا ہے کہ پاکستان سفارتکاری کے میدان میں بھارت کے سامنے ناکام ہوا اور کشمیر کے مسئلہ پر قراردادیں منظور کرنے کے باوجود اسے درست باب میں نہ رکھوا سکا۔
اس بحث اور تاثر کے بارے میں شیخ تجمل الاسلام کا کہنا تھا کہ: “یہ ایک بحث موجود ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کیا حیثیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں باب 6 کے تحت ہیں، لہذا ان پر عمل درآمد لازمی نہیں ہے، اگر یہ قراردادیں باب 7 کے تحت ہوتیں تو ان پر عمل درآمد لازمی ہوتا۔ میری نظر میں باب 6 اور باب 7 کی بحث لایعنی ہے۔ ان قراردادوں کی حیثیت بین الاقوامی معاہدے کی ہے۔ قانونی اعتبار سے اگر دو افراد بھی کوئی قانونی معاہدے کرتے ہیں تو ان دونوں کو پابندی کرنی ہے۔ اسی طرح اگر دو ممالک آپس میں معاہدہ کرتے ہیں، بھارت اور پاکستان اس پر دستخط کرتے ہیں، بڑی طاقتوں کی رضامندی بھی اس میں شامل تھی، لہذا عالمی قوانین میں ان قراردادوں کی حیثیت معاہدوں کی ہے اور ان معاہدوں کی پابندی لازمی ہے، دونوں ممالک کے لیے بھی اور عالمی برادری کے لیے بھی۔ اقوام متحدہ کی دفعہ 103 میں کہا گیا ہے کہ اگر دو ممالک کے مابین کوئی معاہدہ ہو اور انہی ممالک کے مابین عالمی معاہدہ بھی ہو تو عالمی معاہدہ باہمی معاہدے پر بھی حاوی ہوگا۔ لہذا اقوام متحدہ کی یہ قراردادیں بھارت اور پاکستان کے باہمی معاہدوں پر حاوی ہیں۔ ان قراردادوں پر بین الاقوامی شاخصانے کے تحت عمل نہیں ہوا، ورنہ ان قراردادوں پر عمل درآمد ہونا چاہیئے تھا۔“
اقوام متحدہ کی کشمیر کے حوالے درج بالا قراردادوں کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ان قراردادوں میں پاکستان سے تو مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی افواج اور شہریوں کو مقبوضہ وادی سے نکال لے، تاہم یہ قراردادیں بھارت پر ایسی کوئی قدغن نہیں لگاتی ہیں۔ یہ سوال بھی تشویشناک ہے کہ سفارتکاری کے میدان میں یہ کتنا بڑا شبہ ہوا کہ قرارداد میں بھارت پر کوئی ذمہ داری نہیں لگائی گئی۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے افواج کے انخلا اور مقبوضہ وادی کے انتظامات کی تفصیلات قرارداد نمبر 47 میں دی ہیں، جس میں پاکستان اور بھارت دونوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو مقبوضہ وادی سے نکالیں نیز اس انخلاءکے طریقہ کار اور انخلاءکے بعد کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔
شیخ صاحب کا اس قرار داد کے حوالے سے کہنا تھا کہ: “اس قرارداد میں پاکستان کو کہا گیا تھا کہ تم اپنی فورسز نکالو، تب رائے شماری ہوگی، مگر ہندوستان کی جانب سے یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے چونکہ اپنی افواج کو وادی کشمیر سے نہیں نکالا تھا، اس لیے بھارتی حکومت نے رائے شماری نہیں کروائی۔ یہاں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرارداد نمبر 47 کے بعد مذاکرات ہوئے، عالمی وفد کشمیر آیا، جس کے بعد ایک قرارداد پاس ہوئی، جسے قرارداد نمبر 98 کہا جاتا جاتا ہے۔ یہ قرارداد 1952ئ میں منظور ہوئی۔ قرارداد 47 پر عمل نہ کرنے کا پراپیگنڈہ کرنے والے اس قرارداد کو فراموش کر دیتے ہیں، جو قرارداد نمبر 98 میں لکھا گیا۔
قرارداد کا کلاز 4 کہتا ہے:
UN SC urges the Governments of India and Pakistan to enter into immediate negotiations under the auspices of the United Nations Representative for India and Pakistan in order to reach an agreement on the specific number of troops to remain of each side of the cease-fire line at the end of the previously established period of demilitarization. As proposed by the UN Representative this number was to be between 6000 Azad forces and 3500 Gilgit and northern scouts on the Pakistani side and 18000 Indian forces and 6000 local state forces on the Indian side
یہ سراسر غلط پراپیگنڈہ ہے کہ فقط پاکستان کو افواج نکالنے کا کہا گیا، اقوام متحدہ نے ہندوستان سے بھی کہا کہ وہ اپنی افواج کو مقبوضہ علاقوں سے نکالے اور ان کی تعداد 18000 تک رکھے۔ ہندوستان نے اپنی افواج کو کم نہیں کیا، اب اس کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔”
لہذا یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں تو بھارت کو بھی پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی افواج کی تعداد کو ایک حد میں لائے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں موجود ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک مقامی انتظامیہ ہوگی، جسے اقوام متحدہ کے تحت چلایا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے لئے 1950ءمیں ایک قرارداد آئی، جس میں اگرچہ اس علاقے کا براہ راست حوالہ موجود نہیں ہے، لیکن ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کا انتظام بھی اقوام متحدہ کے تحت چلنے والی انتظامیہ کے ذریعے ہوگا۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اکثر شملہ معاہدے کا حوالہ دیتا ہے، جس میں طے پایا تھا کہ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ مسائل کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کریں گے۔ اسی طرح جنگ بندی کی سرحد کو لائن آف کنڑول کے طور پر قبول کیا گیا تھا۔
بھارت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اب مقبوضہ کشمیر بھی ایک دوطرفہ معاملہ ہے، اس میں کسی تیسری قوت کی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بھارت کا وہ بیانیہ ہے، جو مختلف حیلوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس حوالے سے شیخ تجمل الاسلام کا کہنا تھا کہ: “شملہ معاہدے کو اس وقت کے حالات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 71 کی جنگ میں نوے ہزار سے زیادہ پاکستانی جن میں بڑی تعداد فوجیوں کی تھی، ہندوستانی افواج کی قید میں تھے۔ پاکستان کے دو حصے ہوچکے تھے۔ اس وقت اس معاہدے کو ایک فتح سمجھا گیا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ اس معاہدے نے اقوام متحدہ کی مداخلت کی نفی کی ہے۔ شملہ معاہدے کا پہلا نکتہ یہی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق آگے بڑھائے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 103 کہتا ہے کہ: اگر دو ممالک کے مابین ایک عالمی معاہدہ ہے تو اس کو مقامی معاہدے پر فوقیت حاصل ہوگی۔ ایل او سی یا سیز فائر لائن کی بحث ایسی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جنگ بندی کی قراردادیں جو5 جنوری
1949ءیا 13 اگست 1948ءکو منظور ہوئیں، میں جنگ بندی کی بات کی گئی ہے۔ 1949ءکی قرارداد میں تو باقاعدہ جگہوں کے نام لیے گئے ہیں کہ یہ درہ، مقام یہاں جنگ بندی ہوگی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ بھارت کا چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول ہے، اس سے مراد قطعاً یہ نہیں کہ چین اپنے موقف سے پچھے ہٹ گیا ہے۔ ایل او سی، سیز فائر لائن سے فرق نہیں پڑتا، اس سے مراد یہ نہیں کہ پاکستان اپنے موقف سے دستبردار ہوگیا ہے۔ نہ ہی اس سے کشمیر کے مسئلہ کی حیثیت پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان اسی ایل او سی کا پراپیگنڈہ کرتا ہے اور ہمارے نادان لوگ جنھوں نے اس مسئلہ کو پڑھا نہیں ہے، وہ اس پراپیگنڈہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہذا شملہ معاہدے سے عالمی قراردادوں پر اثر نہیں پڑتا ہے۔“
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے متعدد سوالات ایسے ہیں، جن پر ہمارے معاشرے میں مخمصے یا شبہات پائے جاتے ہیں، بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں بھارتی پراپیگنڈہ زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عمومی تاثر ہے کہ بھارت مذاکرات کی میز پر ہمیشہ پاکستان کو مات دیتا رہا ہے، یعنی میدان جنگ میں شہداءکی قربانیوں سے حاصل کی ہوئی کامیابیاں ہمارے سیاستدانوں ںے مذاکرات کی میز پر شکست سے بدل دیں۔ مسئلہ کشمیر کے سلسلے مٰیں منظور ہونے والی قراردادوں کو اس سلسلے میں خاص طور پر بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ کشمیری راہنمائ شیخ تجمل الاسلام کا کہنا ہے کہ: ”یہ تاثر درست نہیں ہے، ہم بعض اوقات خود انتہائی غیر سنجیدہ ہوتے ہیں، مطالعہ نہیں کرتے، نہ سوچتے ہیں اور بھارتی مذموم پراپیگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے یکم جنوری 1948ءکو بھارت اقوام متحدہ جاتا ہے، وہ قراردادوں کے حصول کے لیے نہیں جاتا۔ نہ ہی اس کا مقصد رائے شماری کے حق کو قبول کرنا تھا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ کشمیر پر باہر سے حملہ ہوا ہے، پاکستان سے کہو کہ وہ اپنے حملہ آوروں کو واپس بلائے۔ بات تو یہاں تک نہ رہی۔ اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے سر ظفر اللہ خان نے جوابی درخواست دی۔ جس کے بعد یہ طے ہوگیا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔”
شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ ”ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان اقوام متحدہ میں کیا لے کر گیا تھا اور اسے جواب کیا ملا۔ یہاں سفارتکاری کس کی کامیاب ہوئی؟ بھارت اقوام متحدہ میں موقف اختیار کرتا ہے کہ ہم نے کشمیر میں انتخابات کروائے ہیں، پاکستان نے 1951ءاور 1957ءمیں دو قراردادیں منظور کروائیں، جن میں کہا گیا کہ کشمیر کے انتخابات رائے شماری کا متبادل نہیں ہیں۔ سفارتکاری کس کی کامیاب رہی؟5 اگست 2019ءمیں ہندوستان نے کہا کہ کشمیر ہمارا حصہ ہے، اسے قبول کرلو، کس نے دنیا میں اس دعویٰ کو مانا ہے؟ ٹھیک ہے قرارداد پاس نہیں ہوئی، لیکن سکیورٹی کونسل کا اجلاس تو ہوا۔ یہاں سفارتکاری کس کی کامیاب ہوئی۔؟“ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے مقتدر حلقے یہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر مصالحت کروائے۔ جس کے جواب میں اکثر امریکی صدور کی جانب سے بیان بھی داغے جاتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان یہ تقاضا ان مسلمان ممالک سے کیون نہیں کرتا، جو دونوں ممالک کے ساتھ روابط رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین بہتر انداز سے مصالحت کروا سکتے ہیں۔
شیخ صاحب کا اس امر میں کہنا تھا کہ ”ہندوستان ایک اسٹیٹس کو پاور ہے، وہ نہیں چاہتا کہ کشمیر کی صورتحال میں کوئی تبدیلی ہو، جبکہ پاکستان اور کشمیری چاہتے ہیں کہ حالات بدلیں۔ اسی لیے پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر سے افواج کو نکالو، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرو، اگر وہ بھی نہیں کرتے تو سہولت کاری کی جانب بڑھو۔ بھارت اس کو نہیں مانتا۔ پاکستان اور کشمیریوں کی مصالحت کی خواہش دنیا کے سب ممالک سے ہے، خواہ وہ مسلمان ہوں یا امریکہ۔ اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو دیکھا جائے تو وہ پاکستان اور بھارت دونوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنی افواج کو مقبوضہ اور آزاد کشمیر نیز گلگت بلتستان سے نکالیں یا کم سے کم سطح پر لائیں، ساتھ ساتھ یہ قراردادیں دونوں ممالک پر لازم قرار دیتی ہیں کہ وہ ان دونوں علاقوں میں جو انتظامی امور انجام دیں، وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اور ان کے زیر انتظام ہوں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت نے روز اول سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا۔
اسی طرح پاکستان نے بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو خالی نہیں کیا بلکہ اب تو بھارت نے کشمیر کے حوالے سے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا ہے اور پاکستان نے بھی گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ قرار دے دیا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہونا بدیہی ہے کہ ان اقدامات سے مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کیا پاکستان کا اقدام بھی درست تصور کیا جاسکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں شیخ تجمل الاسلام کا کہنا تھا کہ ”اگر پاکستان گلگت پاکستان کو عبوری صوبہ بناتا ہے تو نئے سوالات اٹھیں گے، نئے چیلنجز سامنے آئیں گے۔ ہندوستان خاموش نہیں بیٹھے گا، کچھ اور حلقے بھی ہیں، جو نہ جاننے کی وجہ سے یا جان بوجھ کر سوالات کھڑے کریں گے، لیکن چیلنجز سے خوفزدہ ہوکر اچھے اقدام کو روکا نہیں جا سکتا۔ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ قرار دیئے جانے کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس سے اقوام متحدہ کی کشمیر کے حوالے سے قراردادیں متاثر ہوں گی۔ یہ بات کہنے والوں سے ہم سوال کریں گے کہ کیسے متاثر ہوں گی؟ ہندوستان نے مقبوضہ وادی کا الحاق کیا اور 1954ءمیں آئینی طور پر یہ اعلان کیا کہ Kashmir will remain Integral part of India ہندوستان اس وقت سے یہ اعلان کر رہا ہے۔ 5 اگست 2019ءکو ہندوستان نے مقبوضہ وادی کو بھارت میں شامل کیا ہے، کیا اس سے اقوام متحدہ کی قراردادیں ختم ہوگئی ہیں کہ عبوری صوبہ بننے سے ختم ہو جائیں گی۔
عبوری صوبہ بنے گا تو کیا سکیورٹی کونسل کی ویٹو پاورز بیٹھیں گی کہ چونکہ پاکستان نے عبوری صوبہ بنایا ہے، لہذا کشمیر سے متعلق قراردادیں کالعدم ہوگئی ہیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔ ان قراردادوں کی ایک عالمی حیثیت ہے۔ یہ قراردادیں پاکستان اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے داخلی انتظام سے متاثر نہیں ہوں گی، بلکہ اس عمل سے قراردادیں مضبوط ہوں گی، کیونکہ پاکستان اپنے آئین میں دوبارہ کہے گا کہ میں گلگت بلتستان کو اس وقت تک صوبہ بنا رہا ہوں، جب تک رائے شماری کے ذریعے پورے مقبوضہ کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ گویا پاکستان کی جانب سے رائے شماری کے فیصلہ کا اعادہ ہوگا۔ دوسری بات جو کہی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر کی وحدت پر اثر پڑے گا۔ گلگت بلتستان کے انتظام کے حوالے سے 1949ءکے کراچی معاہدے میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو دو الگ انتظامات میں دیا گیا، جس سے کشمیر کی وحدت کو فرق نہیں پڑا تو اب کیا فرق پڑ سکتا ہے۔؟ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کی حد ریاست جموں کشمیر وہی ہے، جو ڈوگرہ راج کے وقت تھی، لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ ایک کشمیری باشندے کی حیثیت سے تو میں کہوں گا کہ اجتماعیت کی بنیادیں 1947ء میں طے ہوگئی تھیں۔
وحدت کا معاملہ ہوتا تو پنجاب تقسیم کیوں ہوا جبکہ ان کی زبان ایک تھی۔ ہماری تو زبان بھی ایک نہیں ہے۔ وادی کشمیر کا بندہ جب پنجاب پہنچتا ہے تو گویا وہ پنجاب پہنچ گیا ہے۔ گلگت بلتستان جائیں تو وہ بلتی اور گلگت کی زبان بولتے ہیں، نہ وہ ہماری بات سمجھتے ہیں، نہ ہم ان کی بات سمجھتے ہیں۔ اردو نہ ہو تو ہم اپنی بات دوسرے کو سمجھا ہی نہیں سکتے۔ ایسے ہی ہماری ثقافت بھی ایک جیسی نہیں ہے، موسم مختلف ہیں۔ اس اعتبار سے یکسانیت کیا ہے ہمارے درمیان۔ گلگت بلتستان نے باقاعدہ بغاوت کی ہے کہ ہم کشمیریوں کے تحت نہیں رہیں گے۔ اب بھی فرض کریں کہ جموں کشمیر ایک ریاست بنتی ہے تو گلگت بلتستان کے لوگ اس ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے کہ ہمیں آپ کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ لہذا وحدت کی بنیاد کیا ہے، ماسوائے اس کے کچھ علاقہ ڈوگرہ خاندان کو مل گیا اور کچھ انھوں نے فتح کیا۔ یہ کوئی ایسا مقدس معاملہ نہیں ہے کہ کشمیر کی وحدت متاثر ہو رہی ہے۔ رائے شماری سب کی ہوگی۔“ بحث تو طولانی رہی، تاہم اسی پر اکتفا کرتا ہوں، امید ہے یہ معروضات مسئلہ کشمیر کو سمجھنے اور سمجھانے میں ممد و معاون ہوں گی۔


































