
365 مکانات کی تعمیر کی حتمی توثیق، مزید 415 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری، فلسطینیوں کے ساتھ طویل المعیاد تنازعات کے خاتمے کا امکان ختم ہوجائے گا
اسرائیل امن مذاکرات کی بحالی کو مشکل ترین بنارہا ہے فلسطین ، دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دھچکا لگے گا،یورپی یونین،فیصلہ واپس لیا جائے،برطانیہ
مقبوضہ بیت المقدس(نیوزڈیسک) عالمی برادری کے احتجاج کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی غیرقانونی بستیوں کی منظوری دے دی،امریکی صدر ٹرمپ کا اقتدارکے آخری دنوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر کے اقدامات میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا،سرکاری کمیٹی نے 365 مکانات کی تعمیر کی حتمی توثیق کر دی جبکہ مزید 415 نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی ابتدائی منظوری دے دی، ان میں سے نوے فیصد گھر مغربی کنارے کے کافی اندر اس جگہ پر تعمیر ہوں گے جسے فلسطینی حکام اپنی آزاد ریاست کا اہم مرکزی حصہ بتاتے ہیں ، اسرائیل نے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں گزشتہ برس 12 ہزار نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی ، اسرائیلی بستیوں کی تعمیر پر نظر رکھنے والے ادارے پیس ناوَ کا کہنا ہے کہ بستیاں بسانے سے نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ طویل المعیاد تنازعات کے خاتمے کا امکان ختم ہوجائے گا، بلکہ اس سے مختصر وقت کے لیے اسرائیل اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان ٹکراوَ کی بھی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے ان تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، ترجمان کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن مستقبل میں اگر امن مذاکرات بحال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ، تو اسرائیل اسے مشکل ترین بنانے کی کوشش کر رہا ہے ،یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے نئے فیصلے پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ یہ عالمی قوانین کے برعکس ہے اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دھچکا لگے گا، برطانیہ نے اسرائیلی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے نئی آبادکاریاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے، برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق عالمی قوانین کے تحت اسرائیلی آبادکاریاں غیر قانونی ہیں ، اسرائیلی آبادکاری سے فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔


































