تحریر: آیت اللہ مہدوی کنی
زہد سے مراد اس چیز سے بے رغبتی ہے جس میں ذاتی اور فطری طور پر جاذبیت ہو اور انسان اس کی طرف رجحان اور رغبت رکھتا ہو اگر انسان اپنے ارادہ و اختیار سے اس چیز سے بے رغبتی اختیار کرے اور اس کی جاذبیت و دلکشی کو اہمیت نہ دے تو وہ زاہد کہلائے گا۔ قرآن کریم حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں (جنہوں نے حضرت یوسف ؑ کو غلام کے طور پر معمولی قیمت کے بدلے فروخت کیا تھا) کے بارے میں فرماتا ہے:
” انہوں نے اپنے بھائی یوسف ؑ کے بارے میں زہد اور بے رغبتی کا مظاہرہ کیا اور انہیں کم قیمت میں فروخت کردیا۔وہ یوسف ؑ سے حسد کے باعث انہیں اپنے درمیان نہیں دیکھنا چاہتے تھے یوں انہوں نے اپنے باپ (یعقوبؑ ) کو سالہا سال تک یوسف ؑ کے فراق میں تڑپایا۔“ (سورہ یوسف آیت ۰۲)
یہ تھا زہد کا لغوی اور عام معنی لیکن اخلاقی و معنوی خصوصیت کے لحاظ سے زہد کا مفہوم اس سے کہیں بلند و بالا ہے، زہد عرفا کی نظر میں عبودیت کا ایک مرحلہ و مرتبہ ہے دوسرے الفاظ میں زہد عبارت ہے دنیا کو دل سے نکالنے اور اخروی منازل کی طرف حرکت کرنے سے.
اس لطیف نکتے کی تفسیر ایک جملے یا ایک کتاب میں نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عرفائ اور علم اخلاق کے ماہرین نے زہد کے بارے میں مختلف عبارات اور تعبیروں سے کام لیا ہے جن میں سے ہر تعبیر زہد کے کسی ایک پہلو کی نشاندہی کرتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ لفظ ایک لطیف عرفانی اور مذہبی مفہوم کا حامل ہے لہٰذا بہتر ہے کہ ہم اس لفظ کی تعریف کرتے وقت زبان وحی، پیشوایان مذہب کی تعبیرات اور تعلیمات دینی کا سہارا لیں اور اس لفظ کے حدود اربعہ کو انہی کی روشنی میں معین کریں۔ قرآن کریم نے دو مختصر جملوں میں اس کی ایک جامع تعریف بیان کی ہے جو حکمت و معرفت سے لبریز ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
” اگر دنیا کا تیری طرف منہ کرنا یا اس کا منہ پھیرنا یا اس کا حصول اور اس سے محرومی تمہاری نظروں میں مساوی ہوں دوسرے لفظوں میں دنیا سے محرومی پر تمہیں غم و اندوہ یا افسوس نہ ہو اور دنیا کے حصول سے شادان و وابستہ نہ ہوں تو اس صورت میں تم زہد کے مقام کو حاصل کرلو گے۔“ (سورہ الحدید آیت۳۲)
اس جملے سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوتی ہے کہ زہد ایک باطنی کیفیت ہے جو ان دونوں خصوصیات (دنیا سے محرومی پر عدم افسوس اور حصول دنیا پر عدم خوشحالی) کے ذریعے پہچانی جاسکتی ہے۔ بنابریں حقیقی زاہد وہ ہے جو دنیا کی رنگینیوں اور اس کے زرق و برق کا دیوانہ نہ بن جائے اور مادی دنیا کو اپنا حقیقی مقصد قرار نہ دے بلکہ اس سے کہیں بلند و برتر مقاصد کو پیش نظر رکھے۔ ان عرائض کی روشنی میں ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حقیقی ”زہد“ تین چیزوں سے مشروط ہے۔
پہلی شرط یہ کہ: انسان کے اندر فطری خواہش، رجحان اور رغبت موجود ہو۔ اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے کھانے کی اشیائ اور پھلوں وغیرہ سے بے رغبت ہو جائے تو اس بے رغبتی کو ہم زہد نہیں کہہ سکتے اور اس کا زہد سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری شرط یہ کہ: مادی وسائل تک دسترسی ممکن ہو۔ جو پس اگر کسی کو مجبوری اور عجز و ناتوانی کی بنائ پر حصول دنیا سے محرومی کا سامنا کرنا پڑے تو اسے بھی زاہد کہنا درست نہیں۔
تیسری شرط یہ ہے کہ : دنیا کی تمام تر مادی اور شہوانی ”جاذبیت“ کے باوجود انسان عظیم تر مقاصد اور بالاتر اہداف کی خاطر دنیا سے بے رغبتی اختیار کرے اور دنیا کے زرق و برق اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے والی رنگینیوں کا غلام بن کر نہ رہ جائے۔
یہ تینوں شرائط پوری ہوں تو زہد کا حقیقی چہرہ منصہ شہود پر آتا ہے خلاصہ یہ کہ حقیقی زاہد وہ ہے جو دل سے دنیا کو طلاق دے۔ زاہد وہ نہیں جو حصول دنیا میں ناکامی یا مجبوری یا خودنمائی اور دکھاوے کی خاطر تارک دنیا بن بیٹھے۔
اس بارے میں امیر المومنین حضرت علی ؑ نے بہت کچھ فرمایا ہے جن میں سے کچھ نہج البلاغہ میں مذکور ہے۔ اگر ہم آپؑ کے فرامین کی روشنی میں اس موضوع کے تمام گوشوں پر سیرحاصل بحث کرنا چاہیں تو اس کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہوگی۔ بنابریں یہاں ہم چند نکات بیان کرنے پر اکتفا کریں گے اور تفصیلات کے طالب حضرات کو اس فن کے اساتید کی تحریروں خاص کر شہید مرتضیٰ مطہری ؒ کی کتاب سیری در نہج البلاغہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیں گے۔ امیر المومنین حضرت علی ؑ ایک جگہ دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
” اے دنیا! اے دنیا ! مجھ سے دور ہوجاﺅ۔ کیا تم چاہتی ہو کہ میرے سامنے جلوہ گر ہوجاﺅ۔ تجھے مجھ سے رغبت ہوگئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے(کہ تو مجھے فریب دے) ایسا کبھی نہ ہوگا۔ جا? میرے سوا کسی اور کو دھوکہ دو۔ مجھے تیری کوئی حاجت نہیں۔ میں تجھے تین بار طلاق دے چکا ہوں جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں تیری زندگی مختصر، تیری قدرو قیمت کم اور تیرے ساتھ امید باندھنا پست و حقیر کام ہے۔“
ایک اور مقام پر آپؑ کا ارشاد ہے:
” اگر میں چاہتا تو خالص شہد گندم اور ریشم کے لباسوں کو استعمال کرسکتا تھا لیکن میں کبھی بھی اپنی خواہشات سے مغلوب ہونے والا نہیں ہوں۔ اور نہ لالچ مجھے شکم پرستی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ میں اس لئے خلق نہیں ہوا ہوں کہ اچھے اور لذیز کھانوں کے چکر میں کھو کر رہ جاﺅں اس چوپائے کی طرف جو بندھا ہوا ہو اور اس کا کام چارہ کھانا ہو اور بس۔“
حضرت امام جعفر صادق ؑ سے مروی ہے:
” زہد یہ نہیں کہ تم دنیا میں اپنا مال ضائع کرویا حلال کو اپنے اوپر حرام قرار دو بلکہ زہد اور دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ تم اپنے پاس موجودہ چیز کی بہ نسبت اللہ کے ہاں موجود اشیاءکو زیادہ اہمیت دو۔ یعنی اگر تم صرف اللہ پر بھروسہ کرو اور اس کے علاوہ کسی چیز کا سہارا نہ لو۔ تو جان لو کہ تم زاہد ہو۔“
زہد کی علامات
زہد کے کچھ آثار و علامات ہیں صاحبان عرفان اور سیروسلوک کے ماہرین نے اپنے ذوق کے مطابق زہد کے مختلف آثار بیان کئے ہیں لیکن بہتر ہے کہ یہاں بھی ہم رسول اکرم اور آئمہ معصومین ؑ کے فرامین کی طرف رجوع کریں کیونکہ قرآن کے بعد سب سے بہتر اور سب سے زیادہ خوبصورت کلام رسول خدا(ص) اور زاہدوں کے سالار علی بن ابی طالب ؑ کا کلام ہے۔
رسول اکرم(ص) کی حدیث ہے:
” جو شخص دنیا سے بے رغبتی اور زہد اختیار کرے اللہ اس کے دل میں حکمت کو داخل کرتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت کو جاری فرماتا ہے۔ اسے دنیا کی بیماریوں اور دوائیوں سے آشنا بناتا ہے اور اسے دنیا سے صحیح و سالم نکال کر دارالسلام (بہشت) کی طرف لے جاتا ہے۔“
امیر المومنین حضرت علی ؑ سے مروی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
” بہ تحقیق زہد(دنیا سے بے رغبتی) اختیار کرنے والوں کے دل روتے ہیں اگرچہ وہ بظاہر ہنستے ہیں اور وہ سخت محزون ہوتے ہیں اگرچہ ظاہراً خوشحال ہوتے ہیں نیز وہ اپنے نفس کے ساتھ بہت مقابلہ کرتے ہیں اگرچہ ان کو حاصل نعمتوں پر دوسرے لوگ رشک کرتے ہیں۔“
یہاں اس نکتے کا ذکر فائدہ سے خالی نہیں کہ مذکورہ بالا تشریح و توضیح کی روشنی میں زہد مکمل طور پر ترک دنیا اور مادی نعمتوں سے پرہیز کا نام نہیں۔ چنانچہ حضرت رسول خدا(ص) ، حضرت سلیمان ؑ ، حضرت داﺅد ؑ، حضرت علیؑ اور حضرت خدیجہ ؑ اور دیگر بہت سے اولیائے خدا سلطنت و حکومت اور مال و دولت رکھنے کے باوجوداللہ کے زاہد ترین بندو میں شامل تھے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ عام طور پر زہد انسان کو اس قدر مال و دولت پر قانع بنا دیتا ہے جس سے اس کا گزارہ چل جائے اور اس کی پاکدامنی محفوظ رہے۔
زاہد لوگ اس سے زیادہ دنیا کے پیچھے پڑ کر اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا نہیں کرتے۔ اگر ان کے پاس کوئی چیز ہو بھی تو اسے راہ خدا میں یا لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر خرچ کر ڈالتے ہیں اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔
چنانچہ ارشاد قرآن ہے:
” وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود تنگی میں ہوں۔“ (سورہ حشر آیت )


































