
نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری کا انعقاد چیلنج بن گیا، فسادات روکنے کیلئے دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی اور ری پبلکنز کی اکثریتی ریاستوں کو چھاو ¿نی بنادیا گیا
کئی ریاستوں میں ایمرجنسی،واشنگٹن میں کیپٹل ہل،وائٹ ہاو ¿س اور سپریم کورٹ کی عمارت کی ناکہ بندی، خارادار تارلگاکر تمام راستے بند کردئے گئے
واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکا نے پوری دنیا خاص طور پر مسلم ممالک میں سیاسی خلفشار ، فسادا ت اور ہنگاموں کی جو آگ لگائی تھی وہ خود امریکا کے اندر پہنچ چکی ہے اور نومنتخب صدر جوبائیڈن کی حلف برداری پر فسادات روکنے کیلئے دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی اور ری پبلکنز کی اکثریتی ریاستوں کو چھاو ¿نی بنادیا گیا، ہزاروں نیشنل گارڈز نے سڑکوں اوراہم عمارتوں کے مقامات پر ذمہ داریاں نبھائیں ،ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،واشنگٹن میں کیپٹل ہل،وائٹ ہاو ¿س اور سپریم کورٹ کی عمارت کے گرد کنکریٹ کے بلاک رکھ کر انہیں محفوظ بنایا گیا جبکہ خارادار تارلگاکر راستے بند کردئے گئے ، ایف بی آ ئی اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں نے خبردار کیا تھا کہ ملک کی تمام ریاستی اسمبلیوں کی عمارتوں کے باہر ٹرمپ کے مسلح حامیوں کے مظاہروں اور حملوں کا خطرہ پایاجاتا ہے ، اعلی سطح کے سیکیورٹی اجلاس کے دوران بھی ملک میں تشدد کے خدشات کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی گئی، ایف بی آئی کے انتباہ کے بعد امریکابھر کے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا جبکہ نیویارک میں کرفیو نافذ کرکے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ،20ہزارسے زائد فوجی اہلکار او ر134 لڑاکا طیارے واشنگٹن ڈی سی منتقل کیے گئے ۔ٹرمپ کے حامیوں کے کانگریس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں دارالحکومت واشنگٹن میں تعینات کیے گئے سیکیورٹی اہلکاروں کی یہ تعداد، عراق، شام اور افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد سے تین گنا زیادہ ہے


































