
ایٹمی معاہدے سے متعلق وعدہ خلافیوں پر ایران کا ٹھوس ردعمل،یورینیم کی افزودگی کا عمل 20 فیصد تک بڑھا دیا، ایٹمی توانائی ایجنسی کو بھی آگاہ کردیا گیا
کسی قسم کے نئے مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران کا ٹھو س موقف،ایرانی اعلان جوہری بھتہ خوری مہم ہے ،امریکا،ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، اسرائیل
تہران (نیوزڈیسک) ایران نے امریکا اور یورپی ممالک کی ایٹمی معاہدہ سے متعلق وعدہ خلافیوں پر یورینیم کی افزودگی کا عمل 20 فیصد تک بڑھا دیا ہے ،جس پر امریکا اور اسرائیل میں واویلا مچ گیا ہے ،ایران نے ایٹمی توانائی ایجنسی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی میں اضافہ کررہا ہے ،ایرانی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ترجمان بہروز کمالوندی نے بتایا کہ وہ چارجنوری کی شام مقامی وقت کے مطابق 7 بجے بیس فیصد کے تناسب تک پہنچ گئے ، سیاسی امور کے لیے وزارت خارجہ کے معاون عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کے بغیر زندگی کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے ،جوہری معاہدے یا کسی بھی دوسرے معاملے بالخصوص میزائلوں کے حوالے سے کوئی نئے مذاکرات نہیں ہوں گے، جب تک جوہری معاہدہ ایک کامیاب سمجھوتے میں تبدیل نہیں ہو جاتا اس وقت تک دیگر معاملات کے حوالے سے مذاکرات کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے ،امریکا نے ایران کے یورینیم افزودگی کے اعلان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ، امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے اعلان کو جوہری بھتہ خوری مہم کو بڑھانے کی واضح کوشش قرار دے دیا،انہوں نے کہاکہ یہ کوشش ہمیشہ ناکام رہے گی، ہم پھراعتماد ہیں کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کسی بھی نئی ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی اور رپورٹ کرےگی، اسرائیل نے ایران کو یورینیم کی افزودگی بڑھانے کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیا جائے گا، اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے ایران کا یورینیم افزودگی کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے۔


































