
لاہور: تحریک حسینیہ پاکستان اور ادارہ منہاج الحسینؑ جوہر ٹاون کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا ہے کہ اہلبیت (ع) کی شان میں گستاخی محرم سے قبل ملک میں فساد برپا کرنے کی سازش ہے،آج تک کسی گستاخ کو سزا نہیں ہوئی، ایک گستاخ عبدالرحمان سلفی نے آئمہ اور ان کی والدہ کی توہین کی ہے، اس مجہول نے آئمہ(ع) کیخلاف بازاری زبان استعمال کی ہے، اب اس کیخلاف احتجاج پر مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے لیکن مزید کارروائی نہیں ہوئی،انہوں نے کہا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں مگر حکومت خاموش ہے، ہم نے مرکزی و صوبائی حکومت سے بھی رابطہ کیا اور ویڈیو کو انتظامیہ کے ذمہ داروں کو بھیجا، تاکہ کارروائی کی جائے اور کہا کہ یہ معاملہ حل نہ ہوا تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں، اہلبیتِ نبوت تکمیل ایمان کا مسلمہ ثبوت ہیں، جب تک خانوادہ رسولؑ کی ولایت پر ایمان نہ لایا جائے اُس وقت تک دین اور ایمان مکمل نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم(ص) نے اپنی زندگی میں اہلبیتؑ میں منتخب افراد کو امام قرار دیا اور تمام شیعہ سنی کا ایمان و یقین ہے کہ بارہ آئمہ کی اطاعات کی ہدایت خود نبی کریم(ص) نے فرمائی، کوئی آئمہ کی توہین کرے تو اس کی سزا موت ہے، قانون پاکستان میں بھی اس کی سزا متعین ہیں، توہین صحابہؓ و توہین اہلبیتؑ کرنے والوں کیلئے سزائیں معین ہیں، انہوں نے کہا کہ جو لوگ توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کیخلاف کارروائی میں کوتاہی برتی جا رہی ہے، پہلے تو مقدمہ درج نہیں ہوتا، مقدمہ درج ہو جائے تو کچھ عرصے بعد خاموشی چھا جاتی ہے، اور مجرموں کے سرپرست ان کو رہا کروا کر لے جاتے ہیں۔


































