
لندن : یوکرین پر حملے اور خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف زدہ بوسنیا اور کوسوو نے بھی ایک بار پھر نیٹو میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ الجزیرہ کو انٹرویو میں کوسوو اور بوسنیا ہرزیگوینا کے رہنماؤں نے نیٹو میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی اتحاد میں شامل ہونے سے علاقائی سلامتی کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ بوسنیا اور کوسوو خطے میں ایسے دو آخری ممالک ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں جب کہ سربیا نیٹو مخالف ملک ہے جہاں 1999 میں نیٹو نے سربیا کے خلاف 78 دن تک جنگ کی تھی جس کا مقصد کوسوو میں البانویوں کی نسل کشی کو روکنا تھا۔ یوکرین نے بھی نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی تاہم اس سے قبل ہی روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تھا اور 24 فروری سے تاحال وہاں جنگ جاری ہے۔نیٹو ممالک میں شریک ہونے سے قبل 2017 اور 2020 میں مونٹی نیگرو اور شمالی مقدونیہ میں روس نے مبینہ طور پر باغیوں کی پشت پناہی کی تھی تاکہ ان دونوں ممالک پر مغربی اتحاد کا حصہ بننے میں دباؤ ڈالا جاسکے۔


































