
شریعت اسلامیہ اور ملکی آئین مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا تعین کرچکے ہیں ،کسی کو بھی ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے ،طاہر اشرفی
شر انگیز اور دل آزار کتابوں ، پمفلٹوں ،کیسٹوں اور انٹرنیٹ ویب سائیٹوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے، قانون شکنوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے
لاہور (نیوز ڈیسک)متحدہ علما بورڈ نے مذہب کے نام پر قتل و غارت گری، دہشتگردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شریعت اسلامیہ اور ملکی آئین پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا تعین کرچکے ہیں ، شریعت اسلامیہ اور آئین پاکستان تمام اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتا ہے، اگر کوئی گروہ، فرد یا جماعت قانون شکنی کرتی ہے تو اس کیخلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیئے، کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے اور کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تمام مکاتب فکر کے علما و مشائ خ اور دینی جماعتیں اس سے برات کا اظہار کرتی ہیں۔ متحدہ علما بورڈ کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر نے انسانی حقوق کے اداروں اور این جی اوز کو دعوت دی ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق میں بہتری کیلئے تعاون کیلئے آگے آئیں ، یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و متحدہ علما بورڈ اور نمائندہ خصوصی وزیراعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ طاہر اشرفی نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی پریس کانفرنس میں علامہ محمد حسین اکبر اور دیگر بھی موجود ،طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے مطابق تمام مذاہب و مسالک کے لوگ اپنی زندگی گزاریں ، شر انگیز اور دل آزار کتابوں ، پمفلٹوں ، تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد پر مبنی کیسٹوں اور انٹرنیٹ ویب سائیٹوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے، دل آزار، نفرت امیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اعراض کیا جائے گا، عوامی سطح پر مشترکہ اجلاس منعقد کرکے ایک دوسرے کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔


































