
الرکن الشدید کے نام سے فوجی مشقیں غزہ میں ایک ہفتے تک جاری رہیں گی،مقصد اسرائیل کیخلاف جنگ کیلئے ہمیشہ تیار رہنے کے عمل کو عملی جامہ پہنانا ہے
صہیونی حکومت سے وابستہ دہشت گردوں کا مل کر مقابلہ کریں گے،مزاحمتی تنظیمیں، تحریک2008 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہے،حماس
غزہ (نیوز ڈیسک)فلسطین کے مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کے خلاف مشترکہ مقابلے کا فیصلہ کرلیا ،تمام گروپ مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے ،حماس نے کہا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کے مقابلے میں مسلح استقامت بدستور جاری رہے گی، تفصیلات کے مطابق فلسطینی گروہوں کے مشترکہ آپریشن روم سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام گروپ غاصب صہیونی حکومت سے وابستہ دہشت گردوں کا مل کر مقابلہ کریں گے اور غاصبوں کے خلاف صف آرا ہو کر قبلہ اول مسجد الاقصیٰ کو آزاد کرائیں گے، بیان میں فلسطین کی تاریخ میں پہلی بار مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی اعلان کیا گیا، الرکن الشدید کے نام سے فوجی مشقیں غزہ میں 29 دسمبر سے شروع ہوگئی ہیں جو ایک ہفتے تک جاری رہیں گی، فوجی مشقوں کا مقصد مشترکہ تعاون اور کام کر بہتر کرنے کے تناظر میں جنگ کے لئے ہمیشہ تیار رہنے کے عمل کو عملی جامہ پہنانا ہے ، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور حکومت کے اختتام سے پہلے صہیونی حکومت ممکنہ طور پر حملے کر سکتی ہے، دوسری جانب حماس نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کے مقابلے میں مسلح استقامت بدستور جاری رہے گی،ہم جنگ میں پہل نہیں کریں گے لیکن صہیونی دشمن، اگر فلسطینی قوم کو جارحیت کا نشانہ بنانے اور ان کی خونریزی کے درپے ہوا تو ایسا جواب دیں گے کہ جس کا تصور بھی اس کے لئے محال ہو گا اور یہ دشمن غزہ سے شکست کھا کر واپس بھاگے گا، قیدیوں کی رہائی اس تحریک کا اہم ترین مقصد رہے گا اور تحریک مزاحمت دشمن کا ہرگز پیچھا نہیں چھوڑے گی ، یہ تحریک2008 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہے جسے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے تاہم فلسطینی قیدیوں کو رہا کرانا تحریک حماس کی ترجیحات میں سر فہرست ہےفلسطینی گروہوں کی پہلی مشترکہ فوجی مشقیں، ملکر مقابلہ کا عزم
الرکن الشدید کے نام سے فوجی مشقیں غزہ میں ایک ہفتے تک جاری رہیں گی،مقصد اسرائیل کیخلاف جنگ کیلئے ہمیشہ تیار رہنے کے عمل کو عملی جامہ پہنانا ہے
صہیونی حکومت سے وابستہ دہشت گردوں کا مل کر مقابلہ کریں گے،مزاحمتی تنظیمیں، تحریک2008 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہے،حماس
غزہ (نیوز ڈیسک)فلسطین کے مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کے خلاف مشترکہ مقابلے کا فیصلہ کرلیا ،تمام گروپ مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے ،حماس نے کہا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کے مقابلے میں مسلح استقامت بدستور جاری رہے گی، تفصیلات کے مطابق فلسطینی گروہوں کے مشترکہ آپریشن روم سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام گروپ غاصب صہیونی حکومت سے وابستہ دہشت گردوں کا مل کر مقابلہ کریں گے اور غاصبوں کے خلاف صف آرا ہو کر قبلہ اول مسجد الاقصیٰ کو آزاد کرائیں گے، بیان میں فلسطین کی تاریخ میں پہلی بار مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی اعلان کیا گیا، الرکن الشدید کے نام سے فوجی مشقیں غزہ میں 29 دسمبر سے شروع ہوگئی ہیں جو ایک ہفتے تک جاری رہیں گی، فوجی مشقوں کا مقصد مشترکہ تعاون اور کام کر بہتر کرنے کے تناظر میں جنگ کے لئے ہمیشہ تیار رہنے کے عمل کو عملی جامہ پہنانا ہے ، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور حکومت کے اختتام سے پہلے صہیونی حکومت ممکنہ طور پر حملے کر سکتی ہے، دوسری جانب حماس نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کے مقابلے میں مسلح استقامت بدستور جاری رہے گی،ہم جنگ میں پہل نہیں کریں گے لیکن صہیونی دشمن، اگر فلسطینی قوم کو جارحیت کا نشانہ بنانے اور ان کی خونریزی کے درپے ہوا تو ایسا جواب دیں گے کہ جس کا تصور بھی اس کے لئے محال ہو گا اور یہ دشمن غزہ سے شکست کھا کر واپس بھاگے گا، قیدیوں کی رہائی اس تحریک کا اہم ترین مقصد رہے گا اور تحریک مزاحمت دشمن کا ہرگز پیچھا نہیں چھوڑے گی ، یہ تحریک2008 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہے جسے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے تاہم فلسطینی قیدیوں کو رہا کرانا تحریک حماس کی ترجیحات میں سر فہرست ہے


































