
شاہ فیصل کالونی نمبر 5 میں سادہ لباس اور باوردی سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی، ایک ہی گھر کے 4افراد اغوا، ملیر جعفرطیار سے کامران زیدی کو اٹھالیا گیا
جعفر طیار میں کامران زیدی کے ساتھ بازیاب ہونے والے علی رضا کے گھربھی چھاپہ، حکومت اختیارات کا ناجائز استعمال کرنیوالے اہلکاروں کو لگام دے،ایم ڈبلیو ایم
کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے مولانا عادل کے قاتلوں کی تلاش میں شیعہ آبادیوں میں چھاپے مارے اور ایک ہی گھر کے چار افراد سمیت 11افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، بغیر وارنٹ چھاپے مارکر چادر وچاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا، شاہ فیصل کالونی نمبر 5 میں سادہ لباس اور باوردی سکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ہی گھر کے 4افراد کو اغوا کرلیا، جس میں دانیال عابدی، ان کے بہنوئی سرفراز کاظمی اور دوبھانجے فراز کاظمی اور محمد کاظمی شامل ہیں، ملیر جعفرطیار میں کارروائی کرکے کامران زیدی کو اغواکرلیا ،وہ چند ماہ قبل ہی ڈھائی سالہ جبری گمشدگی کاٹ کرواپس گھرلوٹے تھے ، کامران زیدی کے ہمراہ بازیاب ہونے والے علی رضا عرف بوبی کے گھربھی جعفرطیارمیں چھاپہ مارا گیا لیکن وہ گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے، گلبہار اور علی بستی میں بھی چھاپہ مار کاروائیاں کی گئیں اور 6افراد کو اغوا کرلیا گیا، مجلسِ وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقر زیدی نے شیعہ آبادیوں میں چھاپے اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو لگام دے ،ہم مادر وطن کو کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بننے دیں گے، کالعدم جماعتوں کی خوشنودی کے لیے محب وطن قوم کاگھیراو ¿ ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی بہت بڑی سازش ہے، ہم قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں لیکن قانون کی آڑ میں ملت تشیع کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا،اگر انتظامیہ نے اپنی ظالمانہ روش بدلے بصورت دیگر ملت جعفریہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔


































