
ایران 60کرورڑ ڈالر خرچ کرے گا،40میٹر گہرے اور 50ہزار مربع میٹر رقبہ پر کئی منزلہ عمارت میں وضو خانے ، میوزیم اور لائبریری قائم کی جائے گی
روضے تک زیرزمین سڑک بنائی جائے گی،ا یرانی سیمنٹ ، اسٹیل اور دیگر میٹریل کی درآمد پر ٹیکس کی چھوٹ،عراقی معیشت ایسے منصوبے کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی ،ترجمان
بغداد(نیوز ڈیسک)ایرانی حکومت عراق میں امام حسین ؑاور بین الحریمین کی توسیع اور و مرمت پر60کروڑ ڈالر خرچ کرے گی ، نیوزایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روضے کی توسیع کا منصوبہ 300سالوں میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے ، منصوبے کی نگرانی پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈر حسن بلاراک کر رہے ہیں،جنہیں حال ہی میں امریکا نے اسلحہ اسمگلنگ ، انٹیلی جنس سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ کے الزام کے تحت پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے،رپورٹ کے مطابق ایرانی مزدور اور انجینئرروضہ سے متصل 50ہزار مربع میٹر بڑے اور 40میٹر گہرے گڑھے میں اسٹرکچر کھڑاکرنے میں مصروف ہیں ، اس زیرزمین کئی منزلہ عمارت میں وضو خانے ، میوزیم اور لائبریری قائم کی جائے گی، روضے تک سرنگ میں سڑک بنائی جائے گی جس کے ذریعے لوگ روضہ تک پہنچیں گے، عراقی حکومت نے مذہبی منصوبوں کیلئے ا یرانی سیمنٹ ، اسٹیل اور دیگر میٹریل کی درآمد پر ٹیکس کی خصوصی چھوٹ دی ہے،روضہ اما م حسین ؑ کے ترجمان افضل الشامی نے رائٹرز کو بتایا کہ اتنے بڑے منصوبے کیلئے ایران کی شمولیت کی ضرورت ہے کیونکہ عراقی معیشت اس قابل نہیں کہ ایسے منصوبے کا بوجھ اٹھاسکے، انہوں نے کہا کہ ایرانی روضوں سے بہت محبت کرتے ہیں، جب یہ رقم ایرانی عطیہ دہندگان کی طرف سے ایک سرکاری ادارہ کے ذریعہ آتی ہے ، تو یہ ایرانی حکومت کے لئے اندرون و بیرون ملک نفسیاتی فروغ اور اچھی تشہیرکا ذریعہ بنتی ہے،مذہبی سیاحت تیل کے بعد عراق کی آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے


































