
امریکی فوجی اور سیاسی عہدیدار فہرست میں شامل، ٹرمپ کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد بھی ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ،پراسیکیوٹر
سیاسی معاملہ میں شامل نہیں ہوسکتے، اپنے قواعد کے مطابق کسی بھی ’سیاسی، عسکری، مذہبی یا نسل پرستانہ کارروائی میں شریک نہیں ہو سکتے ،انٹرپول
تہران(نیوز ڈیسک) ایرانی عدالت نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے الزام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت 36امریکی ذمہ داران کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور ٹرمپ کی حوالگی کیلئے انٹرپول کو ریڈ نوٹس کی درخواست دے دی، ایرانی پراسیکیوٹر علی القاسی مہر کے مطابق ٹرمپ سمیت 36 امریکی فوجیوں اور سیاسی عہدیداروں پر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل اور دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، پراسیکیوٹر نے قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی کو قتل اور دہشت گردانہ اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فہرست میں سرفہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں اور ان کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد بھی ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، ایران کے نائب وزیرِ خارجہ محسن بہادواند نے کہا کہ ایرانی عدالتیں ذمہ داران کے خلاف فرد جرم عائد کریں گی اور انھیں امید ہے کہ وہ ڈرون طیارہ اڑانے والوں کو بھی نامزد کر لیں گے ، ایران ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کی کوششیں نہیں روکے گا، جبکہ انٹرپول نے ایرانی درخواست تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، تنظیم کا کہنا ہے کہ اپنے قواعد کے مطابق وہ کسی بھی ’سیاسی، عسکری، مذہبی یا نسل پرستانہ کارروائی میں شریک نہیں ہو سکتے، صدر ٹرمپ کے خصوصی مشیر برائے ایران برائن ہک کا کہنا ہے کہ ہمارے مطابق انٹرپول ایسے مقاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور سیاسی نوعیت کے ریڈ نوٹس جاری نہیں کیے جاتے، یہ سیاسی نوعیت کا ہے، اس کا قومی سلامتی، بین الاقوامی امن، اور استحکام کو بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے وارنٹ برائے گرفتاری جاری کرنا ایک علامتی اقدام ہے تاہم اس سے صدر ٹرمپ کے لیے نفرت ظاہر ہوتی ہے۔


































