
تیونس میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک کسان پر تشدد کے واقعے کے بعد کئی شہروں میں احتجاج جاری ہے۔
تیونس کے دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے گئے، اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس سے جھڑپوں اور پُرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں دو سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر کی عمریں بیس سال سے کم ہیں۔ داخلی سیکیورٹی فورسز کے ترجمان ولید حکمہ نے الزام لگایا کہ گرفتار شدہ لڑکوں اور کم سن بچوں نے لوگوں کی املاک میں توڑ پھوڑ کی ہے اور دکانوں اور بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کی ہے۔
واضح رہے کہ تیونس میں غُربت، بدعنوانیوں اور بے انصافیوں کے خلاف عوامی انقلاب برپا ہوئے ایک عشرہ ہونے کو ہے لیکن سابق مطلق العنان صدر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے دس سال بعد بھی شمالی افریقہ میں واقع اس مسلم عرب ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آئی ہے۔


































