Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

امریکا کی سعودی عرب کو مزید 290 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنیکی منظوری

پینٹاگون نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے سعودی عرب کو 290 ارب ڈالر کی مالیت کے 3 ہزار گائیڈڈ جنگی ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کو 3 ہزار جی بی یو، 39 اسمال ڈائیمیٹر بم (ایس ڈی بی آئیی 1) اسلحہ، کنٹینرز، معاون اشیا، اسپیئرز کی فروخت اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کے خاتمے سے کچھ روز قبل منظور کیے گئے اس پیکیج کی مالیت 290 ارب ڈالر بنتی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس فوجی مدد سے سعودی عرب کے طویل فاصلے تک ہدف بنانے والی استعداد میں اضافہ ہوگا اور سعودیہ کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے معاون ثابت ہوگی۔
دوسری جانب نو منتخب صدر جو بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کو معطل کرنے کا خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے، کیوں کہ وہ اور ان کی جماعت سعودی عرب پر یمن میں بدترین انسانی بحران پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں اور کانگریس نے 35 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ تاہم ناکامی کا سامنا رہا تھا۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے اور ٹرمپ دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر کئی معاہدے طے پائے تھے۔

مزید پڑھیے

Most Popular