
ننگرہار اور کنڑ میں مسلسل شکست کے بعد داعش خراسان کی نصف سے زیادہ طاقت کم ہو گئی تھی، علاقے کھو دینے کے بعد اسکے ہزار کے قریب جنگجو باقی تھے
اب اس کی حملہ کرنے کی صلاحیتوں سے متعلق سوالات بڑھتے جا رہے ہیں،، حقانی نیٹ ورک سے بھی مدد مل رہی ہے،امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ
کابل(نیوز ڈیسک) افغانستان میں داعش خراسان نے پھر طاقت پکڑلی اور اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، امریکی فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ننگرہار اور کنڑ میں مسلسل شکست کے بعد داعش خراسان کی نصف سے زیادہ طاقت کم ہو گئی تھی اور ایک سال پہلے تک اس گروپ کے وسائل کم ہوتے جا رہے تھے، تاہم اب معاملہ بظاہر اس کے برعکس ہے، علاقے کھو دینے کے بعد اسکے ہزار کے قریب جنگجو باقی تھے تاہم اب اس کی حملہ کرنے کی صلاحیتوں سے متعلق سوالات بڑھتے جا رہے ہیں، امریکی عہدیدار کے مطابق داعش خراسان ، داعش کے گلوبل نیٹ ورک کی سب سے بڑی اور مہلک شاخ ہے، اور اس کے عراق اور شام میں موجود داعش قیادت سے براہ راست رابطے ہیں اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران داعش خراسان پر 600 عام شہریوں اور ڈھائی ہزار کے قریب افغان سیکیورٹی اہل کاروں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے ،اقوام متحدہ کے کچھ رکن ممالک کی انٹیلی جنس سروسز کو شبہ ہے کہ داعش خراسان کو ایک اور غیر معمولی ذریعے، حقانی نیٹ ورک سے بھی مدد مل رہی ہے، جس کے طالبان اور داعش کی حریف القاعدہ دونوں سے روابط ہیں ، انٹیلی جنس سروس نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ داعش خراسان کا نیا لیڈر المہاجر، ایک زمانے میں حقانی نیٹ ورک کا ایک درمیانی سطح کا کمانڈر تھا اور اس نے اپنے سابقہ ساتھیوںسے قریبی رابطے بحال رکھے ہوئے ہیں


































