
امریکا نے اسرائیل سے تعلقات کے بدلے مراکش کی مغربی صحارا پر عملداری تسلیم کرلی، امریکا مراکش کو ایک ارب ڈالر کے ہتھیاربھی فروخت کرے گا
اسرائیل کو تسلیم کرنے پر سوڈان دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج،نائن الیون متاثرین کو 70کروڑ ہرجانہ کی بھی پیشکش
واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکا نے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مغربی صحارا پر مراکش کی عملداری تسلیم کرلی جبکہ اسے ایک ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے جائیں گے جبکہ سوڈان کو 23سال بعد دہشت گرد وں کی فہرست سے خارج کردیا،تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افریقی عرب ملک مراکش اور اسرائیل کے درمیان بھی معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوگئے ، اسرائیل سے تعلقات کے بدلے مراکش کی مغربی صحارا پر عملداری تسلیم کرلی گئی حالانکہ یہ علاقہ بین الاقوامی قوانین کے تحت متنازع سمجھا جاتا ہے ، اس کے علاوہ امریکا مراکش کو ایک ارب ڈالر کے ہتھیاربھی فروخت کرے گا،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ مراکش اور اسرائیلی حکومت کے درمیان 60 سال سے تعلقات قائم ہیں جنہیں اب معمول پرلانے کا اعلان کیا گیا ہے، 1956 میں فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد مراکش نے یہودیوں کی نقل مکانی پر پابندی لگادی تھی تاہم اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ذریعے یہودیوں کی اسمگلنگ کا سلسلہ جاری رہا،اردن کے بعد مراکش اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چھٹا عرب ملک ہے ،ادھر امریکا نے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر سوڈان کو باضابطہ طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے نائن الیون کے متاثرین کو سوڈان کیخلاف مقدمہ واپس لینے پر 70کروڑ ڈالر ہرجانہ اداکرنے کی بھی پیشکش کی ہے تاکہ سوڈان اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کو بچایا جاسکے۔


































