
اسرائیل یروشلم میں تعمیرات جاری رکھے گا ، چار ہزار نئے گھر تعمیر کئے جائیں گے، 12 سو سے زیادہ گھر گیوات ہماتاس میں تعمیر ہوں گے،اسرائیلی وزیراعظم
اس اقدام سے مستقبل میں کسی فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہو جائے گا،یورپی یونین ، فلسطینی ریاست بیت الحم اور مشرقی یروشلم میں تقسیم ہو جائے گی ،فلسطین
بیت المقدس (نیوز ڈیسک)اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں 12 سو سے زیادہ گھر تعمیر کرنے کا اعلان کرکے دوستی بڑھانے والے عرب حکمرانوں کو ایک اور زور دار طمانچہ رسید کیا ہے ،عرب حکمرانوں نے اسرائیل سے معاہد ے کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نئی آباد کاری روک دے گا،تاہم اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں 12 سو سے زیادہ گھر تعمیر کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل کرے گا،اسرائیل کے اعلان کے مطابق، وہ گیوات ہماتاس نامی علاقے میں گھر تعمیر کرے گا، اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ یروشلم کا نواحی علاقہ ہے،اس اعلان پر آئندہ سال 18 جنوری کو عمل ہو گا، جو کہ نو منتخب صدر کے منصبِ صدارت سنبھالنے سے دو روز قبل کی تاریخ ہے، اسرائیلی وزیر اعظم، بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل یروشلم میں تعمیرات جاری رکھے گا ، وہ علاقے میں چار ہزار نئے گھر تعمیر کرے گا،فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسے علاقے میں یہودی آبادکاری ہو گی جس پر اسرائیل نے سن 1967 میں قبضہ کیا تھا، اس اقدام سے مستقبل میں کسی فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہو جائے گا، کیونکہ وہ بیت الحم اور مشرقی یروشلم میں تقسیم ہو جائے گی،یورپی یونین کے عہدیداروں نے اس اسرائیلی منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مستقبل میں فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل ہو گیا ہے، یہ نئی تعمیرات یروشلم اور بیت الحم کے درمیان میں کی جائیں گی،ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کیلئے مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانا مشکل تر ہو جائے گا انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ ہے کہ وہ اس اہم اور نازک موقع پر امن کے خلاف ان منفی فیصلوں کو واپس لے


































