
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اقلیتوں کے ساتھ بدتر سلوک پر پاکستانی حکام، سرکاری اداروں جبکہ ہندوستان کی جاسوس ایجنسی را پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کردی۔ کمیشن نے سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دو ہزار چوبیس میں پاکستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے حالات بدستور خراب ہوتے رہے۔ اقلیتوں کیخلاف سلوک نے خوف، عدم برداشت اور تشدد کے بدتر مذہبی اور سیاسی ماحول کو فروغ دیا۔ کمیشن نے سفارش کی کہ امریکی انتظامیہ مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار پاکستانی عہدیداروں اور سرکاری ایجنسیوں پر ہدفی پابندیاں عائد کرے۔
رپورٹ میں ہندوستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ دو ہزار چوبیس میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے حالات بدستور خراب ہوتے رہے کیونکہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملے اور امتیازی سلوک میں اضافہ جاری رہا۔ ہندوستان نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جانبدار اور سیاسی طور پر محرک اندازوں کے سلسلے کا حصہ قرار دیا۔


































