
غزہ : خوراک کیلئے جمع فلسطینیوں کی نسل کشی پر عالمی برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ کولمبیا کے صدر نے کہا کہ خوراک کیلئے جمع فلسطینیوں پر حملہ نسل کشی ہے یہ ہولوکاسٹ کی یاد دلاتا ہے۔ دنیا کو نیتن یاہو کو روکنا چاہئے۔ انہوں نے اسرائیل سے اسلحہ کی خریداری معطل کرنے کا اعلان کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو عالمی انسانی قانون کا احترام کرنے کا پابند بنانے کے لیے واضح اور مضبوط موقف اختیار کرے۔ پاکستانی دفترخارجہ نے بھی حملہ کو وحشیانہ فعل قرار دیا۔ یورپی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا کہ نہتے فلسطینیوں کا قتل عام ناقابل قبول ہے۔ چین نے کہاکہ اسرائیل غزہ میں بدترین نسل کشی کررہا ہے۔فرانسیسی صدر عمانیوئل میکرون نے کہا کہ امداد کے منتظر افراد کی قتل کو جنگی جرم کہاجاسکتا ہے۔ اٹلی اور ایران نے بھی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
جبکہ امریکا نے اسرائیل کی کھلی حمایت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کرنے سے روک دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔


































