
کراچی : سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر دفتر خارجہ کے اعلامیہ سے اسرائیل کا نام نکالنے پر سوال اٹھادیا۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ سے جاری اعلامیہ میں اسماعیل ہنیہ کے خاندان اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے’’اسرائیلی ایڈونچر ازم‘‘ کی مذمت کی گئی۔ دفتر خارجہ کا بیان میڈیا میں رپورٹ بھی ہوگیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس بیان میں سے ’’اسرائیلی‘‘ کا لفظ ہٹا دیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے بیان میں سے اسرائیل کا لفظ کیوں اور کس کے حکم پر نکالا گیا۔؟ کیا ریاست پاکستان نے عوام کے منتخب ادارے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا اعلان کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال اس لئے اٹھا رہا ہوں کہ کچھ عرصے سے دفتر خارجہ اور وزیراعظم شہباز شریف بار بار مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے دو ریاستی فارمولے کی حمایت کر رہے ہیں۔


































