
کرناٹک : بھارتی ریاست کرناٹک کے دکشینا کنڑ ضلع کے کالج میں زیر تعلیم چوبیس طالبات پر حجاب پہننے کی وجہ سے سات دنوں کے لئے کلاس میں جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ فیصلہ پٹور تعلقہ کے اپننگڈی ڈگری کالج کے حکام نے اس وقت لیا جب طالبات نے حجاب اتار کر کلاس میں جانے سے انکار کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کرناٹک کی حکومت نے اسکولوں اور کالجوں کے لئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں جس میں طلبہ کے لئے یونیفارم کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ طالبات کی اکثریت کلاسوں میں شرکت کرنے کا انتخاب کر رہی ہے، لیکن ایک طبقہ ان کو حجاب پہن کر کلاس میں جانے کی اجازت دینے پر اصرار کر رہا ہے۔ بہت سے مسلم طالبات نے تعلیمی اداروں سے دوسرے کالجوں میں داخلہ لینے کے لیے ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی ہے جہاں حجاب کی اجازت ہے۔ کالج انتظامیہ نے طلباء کو یہ بھی بتایا ہے کہ جو حجاب پہن کر کلاسز میں جانا چاہتی ہیں وہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ لے سکتی ہیں۔ حجاب پر پابندی کا معاملہ جو اُڈپی پری یونیورسٹی گرلز کالج کی چھ طالبات کے احتجاج کے طور پر شروع ہوا تھا، پچھلے ایک سال کے دوران کرناٹک میں ایک بڑی صورتحال بن کر سامنے آئی ہے۔ غور طلب ہے کہ حجاب کا معاملہ کورٹ تک پہنچا تھا اور حجاب حامیوں اور مخالفوں کی باتیں سن کر کرناٹک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اسلام میں حجاب پہننا ایک ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلامی عقیدے کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ہائیکورٹ نے مسلم طالبات کی طرف سے کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت کے لئے دائر درخواستوں کو بھی خارج کر دیا تھا۔


































