
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آئینی حدود بخوبی جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری مقدم رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔ پاکستان ائیر فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرکا کہنا تھا کہ آپ ہماری امیدوں کا مرکز، آسمانوں کے محافظ اور علاقائی یکجہتی کے ضامن ہیں، آرمی چیف نے کہا توقع کی جاتی ہے آپ کردار، ہمت اور قابلیت کی خوبیوں سے مُزیّن زندگی گزاریں گے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ آپ کا طرزعمل نہ صرف آپ کی ذاتی اخلاقیات بلکہ ادارے کیلئے بھی غیرمعمولی ہوگا، آپ مادر وطن کے دفاع، عزت و وقار کے لئے قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا ہم اپنی آئینی حدود بخوبی جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری مقدم رکھنے کی توقع رکھتے ہیں، آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار اور اظہار رائےکی حدود متعین کی گئی ہیں، آئین میں آزادی رائے پر واضح قیود کی پامالی کرنے والے دوسروں پر انگلیاں نہیں اٹھا سکتے۔
آرمی چیف نے کہا کہ غزہ جنگ اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ جنگیں کیا کیا مصائب لاسکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ غزہ میں بوڑھوں،خواتین اور بچوں کا اندھا دھند قتل ثبوت ہے کہ دنیا میں تشدد بڑھ رہاہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے اور کشمیر میں بھارتی جارحیت پر دنیا کی خاموشی آزادی کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔ آرمی چیف نے کہا ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، ہمیشہ یاد رکھیں کہ حق طاقت ہے جبکہ باطل کبھی طاقتور نہیں ہوسکتا، انہوں نے کہا کہ اسلحے کی دوڑ سے ہمارے خطے میں طاقت کا توازن بھی بگڑنے کا امکان ہے۔


































