
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر مرشدآباد میں وقف قانون کے خلاف پرتشدد جھڑپوں کے بعد تین افراد ہلاک ہوگئے۔ مرشد آباد جمعہ کو پرتشدد احتجاج کے بعد ہفتے کو بھی کشیدگی کی لپیٹ میں رہا۔ گذشتہ روز تشدد کا بڑا واقعہ شمشیر گنج کے علاقے دھولیاں میں پیش آیا جہاں ہندو باپ بیٹا مارے گئے جبکہ سوتی کے علاقے میں ایک نابالغ نوجوان فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ مرکزی حکومت نے تشدد پر کنٹرول کیلئے شہر میں بی ایس ایف کی پانچ اضافی کمپنیاں تعینات کردی ہیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ کی خصوصی بنچ نے جنگی پور میں مرکزی فورسز کی تعیناتی کا حکم دیا۔ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ذثزجاوید شمیم نے میڈیا کو بتایا کہ تشدد کے سلسلے میں اب تک کل 118 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو افواہیں پھیلا کر تشدد بھڑک اور اکسانے کی کوششوں سے خبردار کیا۔


































