
بغداد : عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی نے امریکی دھمکیوں کے باوجود وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ نوری المالکی نے اے ایف پی کو انٹرویو میں کہا کہ وہ ملک کے احترام اور خودمختاری کے پیشِ نظر اپنی امیدواری سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ المالکی نے امریکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ عراقی عوام کو ان کے ووٹ کے بارے میں ہدایات دے۔ انہوں نے کہا کہ ممالک کو عراق کے ساتھ تعلقات میں شرائط عائد کرنے کا حق ہے تاہم انہوں نے عراق کے داخلی معاملات میں کھلی امریکی مداخلت کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اسلامی دعوہ پارٹی کے سربراہ المالکی نے ایران کے ساتھ عراق کے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات عراق کی خودمختاری کے احترام اور باہمی مفادات پر مبنی ہیں۔ المالکی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ سفارتی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں ہوگا۔ مزاحمتی دھڑوں کے ساتھ مفاہمت ممکن ہے مگر یہ عمل طاقت یا تصادم کے ذریعے نہیں ہوگا۔


































