
کیلی فورنیا : امریکی صدر جوبائیڈن کی نام نہاد امریکا سربراہی کانفرنس بری طرح ناکام ہوگئی۔ جو بائیڈن نے امریکا کے تسلط پسندانہ منصوبے کی توسیع کیلئے جنوبی اور وسطی امریکی ممالک کے سربراہوں کو کیلی فورنیا میں جمع کرنے کی کوشش کی تاکہ عظیم امریکا کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کا کام شروع کیا جائے تاہم 6 جون سے 10 جون تک جاری رہنے والی کانفرنس میں کیوبا، وینزویلا اور نکاراگوا کے سربراہان کو نہ بلانے سے یہ منصوبہ پہلے ہی مرحلے میں ناکام ہوگیا۔ خطے کے تین اہم ممالک کو نہ بلانے پر میکسیکو، گوئٹے مالا، ہنڈوراس اور ایل سلواڈور نے بھی سربراہی اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ میکسیکو کے صدر اینڈریس مینوئل لوپیز اوبراڈور نے واشنگٹن کی اخراج کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ریاست کو بغیر کسی وجہ کے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی اپنی خواہش کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تمام براعظموں کے ممالک شریک نہ ہوں تو امریکا سمٹ نہیں ہو سکتی۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا انتخاب کرنے پر میکسیکو کے صدر کی ہمت اور وضاحت کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ آزاد ممالک کو خارج کرنے کا امریکی حکومت کا فیصلہ امتیازی سلوک ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سربراہی اجلاس ناکام ہو جائے گا۔


































