
واشنگٹن : امریکا کا منافقانہ کھیل جاری ہے ایک جانب تو نئی نئی پابندیاں لگائی جارہی ہیں اور دوسری جانب ایٹمی معاہدے میں واپسی کے کھوکھلے دعوے بھی کئے جارہے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نڈ پرائس نے ایک نیوز کانفرنس میں ایک بار پھر گیند کو ایران کے کورٹ میں ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر ایران معاہدے سے باہر کے مسائل کو نظر انداز کر دے تو معاہدے میں دوطرفہ بازگشت کا امکان پایا جاتا ہے۔ اگر امریکا کی سابق حکومت صحیح سمت جارہے جامع ایٹمی معاہدے سے نہ نکلتی تو آج امریکا کو موجودہ صورتحال کا سامنا نہ ہوتا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ماضی کی جانب تو بازگشت ممکن نہیں البتہ معاہدے میں واپسی کا امکان پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی پیٹرو کیمیکل پروڈیوسرز کے ساتھ ساتھ چینی اور بھارتی بروکرز پر بھی پابندیاں عائد کر دیں۔ محکمہ خزانہ کے سینئر عہدیدار برائن نیلسن کا کہنا ہے کہ معاہدے کی عدم موجودگی میں ہم ایران سے پیٹرولیم، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی برآمدات کو محدود کرنے کے لیے اپنی پابندیوں کا استعمال جاری رکھیں گے۔


































