
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا حماس کے حامیوں کے ویزے اور گرین کارڈ منسوخ کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ حماس کے سپورٹرز کو امریکا سے ڈی پورٹ کیا جائے گا.
فلسطین کے حامی طالب علم محمود خلیل کو کولمبیا یونیورسٹی سے گرفتار کیا گیا، خلیل کی بیوی امریکی شہری اور گرین کارڈ ہولڈر ہے۔ اٹارنی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ خلیل کے پاس مستقل رہائشی کے طور پر گرین کارڈ ہے۔ وکیل کے مطابق ان کا گرین کارڈ بھی منسوخ کیا جا رہا ہے۔
محمود خلیل کے وکیل ایمی گریر نے پریس کو بتایا کہ محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے ملیکتی اپارٹمنٹ میں موجود تھا جب ‘مین ہٹن’ کیمپس میں متعدد امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹس اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور اسے گرفتار کر لیا۔
واضح رہے یہ گرفتاری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکی اسٹوڈنٹس کو گرفتار کرنے اور ‘ڈی پورٹ’ کے اس حکم سے متعلق ہے جو احتجاج میں شرکت کرنے والے غیر ملکی اسٹوڈنٹس کے بارے میں جاری کیا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے جمعہ کے روز کولمبیا یونیورسٹی کے لیے 400 ملین ڈالر کی فیڈرل گرانٹ میں کٹوتی کر دی ہے۔ اس کٹوتی کی وجہ کولمبیا یونیورسٹی میں اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے نہ روک سکنے کو بتایا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کولمبیا یونیورسٹی میں ان مظاہروں کو یہود دشمنی بھی قرار دیتی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے کہا ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے پہلے وارنٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ ترجمان نے ایسے کسی وارنٹ کے یونیورسٹی کو موصول ہونے کی تردید کی ہے جن کی وجہ سے محمد خلیل کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
خیال رہے محمود خلیل امریکی کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں چلنے والی تحریک کا سب سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔ محمود خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی کے جنگ مخالف طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے منتظمین سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔


































